عوام جائیں تو جائیں کہاں؟ اشیائے ضروریہ کی قلت، پیٹرول 1200 روپے فی لیٹر فروخت
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
جائیں تو جائیں کہاں؟پارہ چنار میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے، ٹل پارہ چنار مرکزی شاہراہ 142 روز سے بند ، خوراک، ادویات اور فیول کی قلت کا سامنا ہے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 1200 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔
انتظامیہ نے لوئر کرم میں قافلوں پر فائرنگ کے واقعات میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائی کا اعلان کردیا،سماجی رہنماء کا کہنا ہے کہ علاقے میں خوراک، ادویات کی قدلت ہے، ڈیڑھ ہزار طلباء و طالبات اور دوہزار کے قریب اوورسیز پاکستانی علاقے میں پھنس گئے ہیں، فیول کی عدم دستیابی کے باعث پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 1200 فی لیٹر تک پہنچ گئی ہیں۔
ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق شہریوں کیلئے ایک سے دوسری جگہ جانا انتہائی مشکل ہوگیا، جرگہ ممبر نذیر احمد نے کہا کہ امن معاہدے کے باوجود روڈ نہ کھولنا افسوسناک ہے، محصور عوام کی جان و مال کا تحفظ کیا جائے اور روڈ کھولا جائے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق لوئر کُرم میں فائرنگ کے واقعے میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائی کا اعلان کردیا گیا ہے، چار گاؤں خالی کرانے کا حکم دے دیا گیا، جن میں اوچت، مندوری، ڈاڈ کمر اور بگن شامل ہیں، امن و امان یقینی بنانے کیلئے سرچ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے، حکام نے ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کو شیڈول فور میں ڈالنے کا اعلان کردیا، کشیدہ صورتحال کے ماسٹر مائنڈز کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ فائرنگ واقعے کے بعد بدامنی کے خاتمے کیلئے بنکرز مسمار کرنے کا عمل تیز کردیا گیا ہے، امن معاہدے پر سختی سے عملدرآمد اور امن کمیٹیوں کو ذمہ داریاں نبھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: گیا ہے
پڑھیں:
دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کا کردار بالکل واضح ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم ملکی استحکام، دفاع اور قومی یکجہتی میں اس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی اور قیامِ پاکستان میں بھی بلوچستان کے عوام نے تاریخی کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے مستونگ میں سیشن جج پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ملک سے دہشت گردی کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس چیلنج کا مقابلہ پوری قوم کو متحد ہو کر کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں عالمی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کی عکاس ہیں۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کو معاشی ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔