کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے سندھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے تعلیمی بورڈز کی کارکردگی پر شدید عدم اعتماد،بورڈ میں انتظامی و مالی معاملات، نتائج میں بے ضابطگیوں اور مارکس کے طریقہ کار سمیت مالی اخراجات کے اسپیشل آڈٹ کرانے کے حکم پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ میں اپنے 17سالہ بدترین دور حکمرانی میں شہر کا انفرا اسٹرکچر ہی نہیں تعلیم اور تعلیمی نظام کو بھی تباہ و برباد کیا ہے۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے، طلبہ و اساتذہ کرام بے شمار مشکلات و پریشانیوں کا شکار ہیں، اربوں روپے کا سالانہ تعلیمی بجٹ نااہلی اور کرپشن کی نذ رہو رہاہے، حکومتی سرپرستی میں کراچی کے طلبہ و طالبات کا تعلیمی حق مارا جا رہا ہے، انٹر کے امتحانات میں ہر سال ہیر پھیر کی جارہی ہے اور اس حوالے سے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ بھی سامنے نہیں لائی جا رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم ڈی کیٹ میں پرچے لیک ہونے اور بد انتظامی و بے ضابطگی بھی معمول بن گئی ہے، جعلی ڈومیسائل کی بنیاد پر میڈیکل کالجوں میں داخلے دیئے جا رہے ہیں، سندھ حکومت نے جامعات پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جامعات کی خودمختاری پر کاری ضرب لگائی ہے، کسی بھی بیورو کریٹ کو مادر علمی کا وائس چانسلر لگانے اور اساتذہ کی عارضی تقرری کا نظام بنا کر من پسند لوگوں کی بھرتی کے ذریعے رشوت اور کرپشن کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں، جامعات ایکٹ میں ترامیم کے خلاف اساتذہ کرام کے مسلسل احتجاج کے باوجود اساتذہ تنظیموں اور اساتذہ کے نمائندوں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور اسمبلی سے بل منظور کروا لیا گیا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھاکہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے تعلیم دشمن اقدامات اور پالیسیوں نے جامعات و تعلیمی بورڈز اور تعلیم کو مذاق اور تماشہ بنا دیا ہے، نہ صرف طلبہ و اساتذہ بلکہ والدین اور عام شہری بھی اس تعلیمی بد حالی کے باعث شدید ذہنی و جسمانی اذیت اور پریشانی کا شکار ہیں، سندھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے عدم اعتماد کے اظہار نے سندھ میں تعلیم کی تباہ حالی اور تمام تعلیمی بورڈز کی نا اہلی و ناقص کارکردگی کو ایک بار پھر عیاں کر دیا ہے جبکہ تعلیم سے وابستہ اور عوامی حلقہ مسلسل اس بد ترین صورتحال کی جانب متوجہ کر رہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے بھی مجرمانہ چشم پوشی و خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا کل مینار پاکستان جلسہ لٹک گیا، انتظامیہ نے اجازت نہیں دی
  • سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
  • فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کا ناپاک گٹھ جوڑ وطن عزیز کا امن تباہ نہیں کر سکتا: محسن نقوی
  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے: بلاول بھٹو زرداری
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت