نیوزی لینڈ سے میچ کیوں ہارے؟ شعیب اختر نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے نیوزی لینڈ کیخلاف پاکستان کی ہار پر لب کشائی کردی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ ویڈیو میں راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر نے گرین شرٹس کو مشورہ دیا کہ پاکستانی ٹیم کو جارحانہ کھیل کھیلنے کی ضرورت ہے، دنیا جس انداز میں کھیلتی ہے، ہم اس سے بہت دور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان 6 رنز اوور کی اوسط سے بھی بالنگ کرواتا تو میچ جیت سکتا تھا لیکن ہم بیٹرز بہت سلو کھیل رہے ہیں جسکا نقصان ہمیں ہار کی صورت میں اٹھانا پڑا۔
شعیب اختر نے شکست کے باوجود پاکستان کیلئے بھارت کیخلاف میچ کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انڈیا کو شکست دینی ہے تو جارحانہ کھیل پیش کرنا ہوگا، وہ ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیموں میں سے ایک ہیں۔
سابق کرکٹر نے بالرز کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہمارے بالرز اختتامی اوورز میں بہت زیادہ رنز لٹارہے ہیں، جس پر انہیں کام کرنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ قومی ٹیم روایتی حریف بھارت کیخلاف 23 فروری کو دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں مدمقابل آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی