جی ڈے اے رہنما غلام مرتضیٰ جتوئی کیخلاف کیسز کے معاملے پر اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
سندھ حکومت نے غلام مرتضٰی جتوئی کے کیسز کی سماعت حیدرآباد کے نارا جیل میں کرنے کی منظوری دے دی۔ اسلام ٹائمز۔ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے گرفتار رہنما غلام مرتضٰی جتوئی کے خلاف کیسز کے معاملے پر اہم پیشرفت سامنے آگئی ہے۔ سندھ حکومت نے غلام مرتضٰی جتوئی کے کیسز کی سماعت حیدرآباد کے نارا جیل میں کرنے کی منظوری دے دی۔ محکمہ داخلہ سندھ نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ جی ڈی اے رہنما غلام مرتضٰی جتوئی کے خلاف تین مختلف کیسز درج ہیں۔ مرتضی جتوئی کے خلاف مورو میں ایف آئی آر نمبر 78/2024، باڈھ پولیس اسٹیشن حدود میں ایف آئی آر نمبر 9/2025 اور لاڑکانہ کی تحصیل ڈوکری میں ایف آئی نمبر 2/205 درج ہے۔ تینوں مقدمات کی سماعت حیدرآباد کی نارا جیل میں ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غلام مرتض ی جتوئی کے
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :