پیٹرولیم ڈیلرز کا مصنوعات کی ڈی ریگولیشن کے پلان پر تحفظات کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے پیٹرولیم مصنوعات کی ڈی ریگولیشن کے پلان پر تحفظات کا اظہار کردیا۔
وفاقی حکومت کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے منصوبے پر پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے تحفظات کا اظہار کردیا گیا ہے۔
ایسوسی ایشن نے قیمتوں سے متعلق وفاقی وزیر پیٹرولیم مصدق ملک کو خط لکھ کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور بتایا کہ مشاورت کے بغیرکوئی بھی فیصلہ قبول نہیں ہوگا۔
خط میں لکھا گیا کہ وزیر پیٹرولیم معاملے پر ایسوسی ایشن کے ساتھ بات کریں، پیٹرولیم ڈیلرز کے ملک بھر میں 15 ہزار سے زائد پیٹرول پمپس ہیں اور ڈیلرز نے سیکٹر میں کھربوں روپے کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔
مارکیٹ اسٹیک ہولڈر ہونے کے باعث بغیر مشاورت کوئی فیصلہ قبول نہیں ہوگا۔
پہلے بھی طے ہوا تھا ڈی ریگولیشن پر بات چیت کے بعد فیصلہ ہوگا۔
خط میں لکھا گیا کہ ملک میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ اور فروخت روکنے کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تحفظات کا اظہار ایسوسی ایشن
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز مہنگی ہونے کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کابینہ کمیٹی برائے ادویات کی قیمتوں کا آٹھواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج، سیکریٹری قومی صحت، ضابطہ و رابطہ محمد اسلم غوری، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ اور وزارت تجارت و وزارت خزانہ کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے نئی ادویات کی قیمتوں کے تعین، ہارڈ شپ درخواستوں، قیمتوں سے متعلق دیگر معاملات اور ضروری ادویات کی دستیابی کے حوالے سے اپنی سفارشات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا اور کمیٹی کے غور کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی، مشاورتی عمل کے تحت اور وسیع تر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ضروری ادویات تک مریضوں کی رسائی، ادویہ ساز صنعت کی پائیدار فراہمی اور مریضوں کے لیے ادویات کی استطاعت کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
وزیر خزانہ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اہم ادویات سے متعلق فیصلوں کی وجوہات عوام تک واضح انداز میں پہنچائی جائیں تاکہ ان کے پس منظر اور مقاصد کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔