خبردار رہیں!ڈکیتوں کا نیا طریقہ واردات ، وائرل ویڈیو سےاہم انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2025 GMT
شہر قائد میں ڈکیتوں نے لوٹا ماری کیلیے نیا طریقہ واردات اپنا لیا ہے، جس کا حال ہی میں وائرل ویڈیو سے انکشاف ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کورنگی صنعتی ایریا کے علاقے مہران ٹاؤن میں نوعمر پر مشتمل ڈکیت گروپ نے ایک گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم گھر میں موجود خاتون نے شدید مزاحمت کر کے گھر میں گھس کر لوٹ مار کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔
نوعمر لڑکی کے ساتھ نوجوان لڑکا بھی تھا جن کے ہاتھ میں پھلوں کے شاپنگ بیگ تھے، انہوں نے ایک گھر کا دروازہ بجایا تو پیچھے ساتھی تیار کھڑے تھے۔ دروازہ کھلتے ہی ساتھی گھر میں داخل ہوئے تاہم خاتون نے مزاحمت کی جس پر وہ انہیں زمین پر بہیمانہ طریقے سے گرا کر گھبراہٹ میں فرار ہوگئے۔
ڈکیتوں کے دھکے اور تشدد کی وجہ سے خاتون کی قمیص بھی پھٹ گئی تھی۔ پولیس نے واردات کا مقدمہ درج کرلیا، جس کے مطابق واقعہ 18 فروری کی شام پانچ بچے پیش آیا۔واردات میں موٹر سائیکل سوار 2 ڈاکو نوعمر لڑکی کے ہمراہ ایک گھر کے مین گیٹ پر آئے، اس دوران تیسرا ساتھی بھی اُن کے پاس آیا اور پھر دونوں نے جاکر گھر کا دروازہ بجایا۔
اس حوالے سے ایس ایچ او کورنگی صنعتی ایریا خالد میمن سے رابطہ کیا تو انھوں نے واردات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ وقعہ ناصر پولیس چوکی کی حدود میں پیش آیا ہے جس کا مقدمہ مزاحمت کرنے والی خاتون کی والدہ کی مدعیت میں درج کرلیا جبکہ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھائی دینے والے ڈاکوؤں اور نوعمر لڑکی کو سرگرمی سے تلاش کر رہی ہے جنھیں جلد گرفتار کرلیا جائیگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: گھر میں
پڑھیں:
اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ
روم؍ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ اطالوی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی اٹلی کے علاقے کیلابریا میں پیش آیا۔ چاروں افراد کا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ ایک زرعی فارم میں کام کرتے تھے۔ چاروں افراد کی لاشیں ایک جلی ہوئی وین کے اندر سے برآمد کی گئیں۔ پولیس نے تحقیقات کی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 2 ملزموں کو گرفتار کرلیا۔ دوسری جانب ترجمان دفترخارجہ نے جنوبی اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے مبینہ قتل پر ردعمل میں کہا ہے کہ اطلاع ہے کہ اٹلی میں جاں بحق افرادکا تعلق پاکستانی نژاد خاندانوں سے ہے۔ جاں بحق ہونے والوں کی درست شہریت کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی۔ سفارتخانہ اطالوی حکام سے رابطہ میں ہے۔