چیئر مین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت آئی سی ٹی ایمپلایز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیویشن کی گورننگ باڈی کا اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2025 GMT
چیئر مین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت آئی سی ٹی ایمپلایز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیویشن کی گورننگ باڈی کا اجلاس WhatsAppFacebookTwitter 0 21 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز ) چیئر مین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت جمعہ کے روز سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں آئی سی ٹی ایمپلایز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیویشن کی گورننگ باڈی کا سترھواں اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں گورننگ باڈی کے ممبران سمیت ضلعی انتظامیہ، کمشنر سوشل سیکورٹی اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔
.
چیئر مین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے ہدایت کی کہ مختلف منصوبوں کیلیے جواینٹ وینچرز کیلئے ٹرانزیکشن ایڈوایزر کی خدمات حاصل کی جائیں۔ اجلاس میں ورکرز کیلیے مذکورہ ایجنڈہ کو مدنظر رکھتے ہویے حج پالیسی کی منظوری دینے کا فیصلہ کیا گیا. اس پالیسی کے تحت سات سال سے زاید ملازمت کرنے والے ورکرز درخواست دینے کے اہل ہونگے،مزید برآں اجلاس میں ملازمین اور انکے اہل خانہ کے علاج و معالجے کیلیے شہر کے اعلی اور معیاری ہسپتالوں کو پینل پر لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ پینل پر لیے جانے والے ہسپتالوں میں پی اے ایف، فوجی فاونڈیشن، نیسکام، کے آر ایل سمیت پنجاب سیکورٹی ہسپتال شامل ہیں۔
چییرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے ممبر فنانس کو تمام ہسپتالوں میں کنٹریکٹ ریٹس سمیت ڈسکاونٹ پر نظر ثانی کرنے کی ہدایت بھی کی. بعد ازاں اجلاس میں حال ہی میں ہمک ماڈل ٹاون میں تعمیر کردہ سوشل سیکورٹی میڈیکل سینٹر کیلئے سٹاف کی بھی منظوریدی گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔