محبوبہ مفتی مقبوضہ کشمیر میں شراب پر پابندی کی دستخطی مہم میں شامل ہوئیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, February 2025 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کاکہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس جس کے پاس 50 ارکان اسمبلی اور دو ارکان پارلیمنٹ ہیں، دفعہ 370 اور 35A سمیت اہم مسائل پر مضبوط موقف اختیار کرے اور ان پر کھل کر بات کرنے سے گریز نہ کرے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے مارشل لاء جیسے حالات پیدا کرنے پر ریاستی اسمبلی کے سپیکر عبدالرحیم راتھر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ محبوبہ مفتی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اسمبلی کے اسپیکر کا کردار ایوان کے ارکان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے نہ کہ اس میں رکاوٹیں پیدا کرنا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک تجربہ کار سیاست دان ایک آئینی عہدے پر فائز ہوتے ہوئے ایک قسم کا مارشل لاء نافذ کر رہے ہیں۔ دریں اثناء محبوبہ مفتی نے جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں جموں و کشمیر میں شراب پر پابندی کے حوالے سے پارٹی کی دستخطی مہم میں حصہ لیا۔ اس مہم کا آغاز ان کی بیٹی اور پارٹی لیڈر التجا مفتی نے گزشتہ روز کیا تھا۔ محبوبہ مفتی نے پلوامہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ان کی پارٹی کی طرف سے لائے گئے بلوں کی حمایت کریں اور علاقے میں ایسے کاروباری ضوابط نہ بنائیں جن سے 5 اگست 2019ء کے غیر آئینی اور غیر قانونی فیصلوں پر منظوری کی مہر ثبت ہو جائے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس جس کے پاس 50 ارکان اسمبلی اور دو ارکان پارلیمنٹ ہیں، دفعہ 370 اور 35A سمیت اہم مسائل پر مضبوط موقف اختیار کرے اور ان پر کھل کر بات کرنے سے گریز نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بڑے مسائل کے بارے میں جاننے کا حق ہے۔ اگر 2019ء میں کوئی غلط اور غیر آئینی فیصلہ کیا گیا تو کاروباری قوانین کو اس طرح سے نہیں بنایا جانا چاہیے جس سے ایک عوامی حکومت کے ذریعے اس فیصلے کو جائز قرار دیا جائے۔ انہوں نے سیاحت، نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور منشیات کے استعمال جیسے مسائل پر بات چیت کے فقدان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنمائوں کو ان مسائل سے بچنے کے بجائے ان کو حل کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی نے کہا کہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔