اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 فروری ۔2025 )جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے رکن ایڈووکیٹ اختر حسین نے حالیہ عدالتی تقرریوں میں تنازعات پر عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اخترحسین پاکستان بارکونسل کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے نامزدرکن تھے رپورٹ کے مطابق جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے رکن ایڈووکیٹ اختر حسین نے چیئرمین جوڈیشل کمیشن جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھجوادیا.

(جاری ہے)

اختر حسین نے استعفے میں موقف اپنایا ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی رکنیت سے مستعفیٰ ہورہا ہوں پاکستان بار کونسل نے مجھے 3مرتبہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا رکن نامزد کیااپنی ذمہ داریاں اپنی بہترین صلاحیتوں کےمطابق انجام دیتا رہا انہوں نے اپنے فیصلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ حالیہ عدالتی تقرریوں سے متعلق تنازعات کی بنا پر مزیدکام جاری نہیں رکھ سکتا، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی رکنیت سے مستعفی ہوتا ہوں.

انہوں نے لکھا کہ عدلیہ کی ترقی،خودمختاری کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھوں گا،چیئرمین پاکستان بار کونسل کا شکریہ ادا کرتا ہوں ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن میں نئے ممبر کے تقرر کے لیے پاکستان بار کونسل نے اہم اجلاس بدھ کو طلب کرلیا ممبر جوڈیشل کمیشن کے لیے سینئر وکیل احسن بھون کو نامزد کیے جانے کا امکان ہے خیال رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 26ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن سے نام طلب کیے تھے.

سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے 13 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس کے سربراہ چیف جسٹس ہوں گے 26ویں آئینی ترمیم کے مطابق 13 رکنی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہوں گے جب کہ عدالت عظمیٰ کے 3 سینیئر ترین ججز بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے اور آئینی بینچ کا سینیر ترین جج بھی جوڈیشل کمیشن کا رکن ہوگا. کمیشن کے ارکان میں وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور کم از کم 15 سالہ تجربے کا حامل پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 2 حکومتی اور 2 اپوزیشن ارکان بھی رکن ہوں گے جب کہ سینیٹ میں ٹیکنوکریٹ الیکشن لڑنے کے لیے اہل خاتون یا غیر مسلم کو بھی 2 سال کے لیے جوڈیشل کمیشن کاحصہ بنایا جائے گا، اس رکن کا تقرر چیئرمین سینیٹ کریں گے.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان پاکستان بار کونسل جوڈیشل کمیشن کے ہوں گے کے لیے

پڑھیں:

بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 24 جولائی 2026ء) یورپی یونین کے حکام کے مطابق اس پلیٹ فارم کے بعض ڈیزائن فیچرز بچوں کو جنسی استحصال کرنے والے افراد اور سائبر بُلیئنگ جیسے خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں۔

یہ الزامات ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (ڈی ایس اے) کے تحت جاری کیے گئے ابتدائی نتائج کے بعد عائد کیے گئے ہیں۔ اس قانون کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر غیر قانونی اور نقصان دہ آن لائن مواد کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنا لازم ہے۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران ٹک ٹاک کے خلاف یہ چوتھا بڑا مقدمہ ہے۔

یورپی یونین کے انتظامی بازو یورپی کمیشن کے ٹیکنالوجی کے شعبے کا نگران ذیلی دفتر کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کے صارف اکاؤنٹس ڈی ایس اے کے حفاظتی معیارات پر پورا نہیں اترتے۔

(جاری ہے)

یورپی کمیشن کے مطابق ٹک ٹاک بچوں کو اپنے اکاؤنٹس پبلک رکھنے کی اجازت دیتا ہے، جس سے ان کی پوسٹس ہر شخص کے لیے قابل رسائی ہو جاتی ہیں اور وہ سائبر بُلیئنگ یا آن لائن بدسلوکی کرنے والے افراد کے ساتھ رابطے میں آ جانے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

کمیشن نے مزید کہا کہ پرائیویٹ اکاؤنٹس رکھنے والے بچوں کو بھی مکمل تحفظ حاصل نہیں، کیونکہ دوسرے صارفین کی 'فالونگ‘ اور 'فالورز‘ فہرستوں کے ذریعے ان کے اکاؤنٹس آسانی سے تلاش کیے جا سکتے ہیں، حتیٰ کہ ایسے افراد بھی انہیں ڈھونڈ سکتے ہیں جن کا ٹک ٹاک پر اپنا کوئی اکاؤنٹ موجود نہ ہو۔

یورپی کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ کم عمر صارفین کے پبلک اکاؤنٹس کی ڈیفالٹ سیٹنگز تبدیل کی جائیں تاکہ ان کا مواد ازخود صرف انہی ٹک ٹاک صارفین کو نظر آئے جنہیں متعلقہ بچوں نے خود اجازت دے رکھی ہو۔

ٹک ٹاک کا ردعمل

دوسری جانب ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ وہ یورپی کمیشن کے ابتدائی تحقیقاتی نتائج کا جائزہ لے گا اور ریگولیٹر کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھے گا۔

اس کمپنی کے ایک بیان میں کہا گیا، ''ٹک ٹاک پر نوعمر صارفین کے اکاؤنٹس میں رجسٹریشن کے وقت ہی ماہرین کی مشاورت سے تیار کردہ 50 سے زائد پرائیویسی اور حفاظتی فیچرز فعال ہوتے ہیں۔

‘‘

اب ٹک ٹاک کو یورپی کمیشن کی دستاویزات کا جائزہ لینے اور اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، جس کے بعد کمیشن اپنا حتمی فیصلہ جاری کرے گا۔ اگر اس کمپنی کے خلاف عائد کردہ الزامات ثابت ہو گئے، تو ٹک تاک پر اس کی سالانہ عالمی آمدنی کے 6 فیصد تک کے برابر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ٹک ٹاک اس سے قبل بھی دو مقدمات میں ممکنہ جرمانوں سے بچنے کے لیے یورپی ریگولیٹرز کو مختلف رعایتیں دینے پر آمادہ ہو چکا ہے، جبکہ اس کے خلاف ایک کیس میں تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت