امریکی ویزے کے حصول کے خواہش مند جعلی اپوائنٹمنٹ لیٹرز سے ہوشیار
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی نے ایک کارروائی میں امریکی ویزے کے حصول کے لیے شہریوں کو جعلی دستاویزات فراہم کرنے میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا۔ایف آئی اے کے مطابق کراچی میں چھاپا مار کارروائی میں عمیر اسلم نامی ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے، جس کے خلاف امریکی قونصلیٹ کراچی کی جانب سے شکایت کی گئی تھی۔ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے 2 خواتین کو جعلی اپوائنٹمنٹ لیٹر جاری کیا تھا، ملزم نے خواتین کو ویزا پراسس فیس کی جعلی بینک ٹرانزیکشنز سلپ بھی جاری کی۔گرفتار ملزم نارتھ ناظم آباد میں واقع العمران ایویشن نامی ٹریول ایجنسی میں ملازمت کر رہا تھا، اس نے خواتین سے مجموعی طور پر 1 لاکھ 34000 روپے ہتھیائے، اور بھاری رقوم وصول کر کے متاثرین کو جعلی اپوائنٹمنٹ لیٹر اور جعل بینک سلپ جاری کیں۔متاثرہ شہریوں نے پوچھ گچھ پر انکشاف کیا کہ ملزم نے رقوم نقد وصول کر کے واٹس ایپ کے ذریعے جعلی دستاویزات بھیجی، تاہم نجی بینک کی جانب سے مذکورہ ٹرانزیکشن سلپ کو جعلی قرار دیا گیا۔امریکی قونصلیٹ حکام نے مذکورہ ایجنٹ کے خلاف تحریری شکایت درج کرائی، جس پر ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا، ملزم سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کو جعلی
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔