رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کیلئے پاکستان‘ سعودیہ میں اجلاس آج ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
اسلام آباد+ ریاض (نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی) رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج پشاور میں ہوگا۔ کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی صدارت میں اجلاس شام 6 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوگا۔ اجلاس میں دیگر مرکزی ممبران و علماء کے علاوہ سپارکو اور محکمہ موسمیات کے حکام بھی شریک ہوں گے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پشاور سمیت خیبر پی کے میں آج چاند نظر آنے کے امکانات کم ہیں۔ ادھر سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے عوام سے آج رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کی اپیل کر دی۔ سعودی سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ 28 فروری کی شام کو چاند نظر آنے کی صورت میں قریبی عدالت میں شہادت جمع کرائیں۔ ماہرین فلکیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ سعودی عرب میں آج 28 فروری کو رمضان نظر آسکتا ہے اور یکم رمضان مارچ کی پہلی تاریخ کو ہوگا۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو 30 سال بعد ایسا موقع آئے گا جب اسلامی اور عیسوی مہینوں کا آغاز ایک ہی تاریخ کو ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔