بلوچستان کے ضلع خضدار میں پہلی مرتبہ ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام جناح اسٹیڈیم میں ’کتاب میلہ، کھیل اور ثقافتی فیسٹیول 2025‘ کا انعقاد کیا گیا، جو بلوچستان کے نوجوانوں خصوصاً ابھرتی ہوئی جنریشن زی کی تخلیقی صلاحیتوں، اعتماد اور ثقافتی شناخت کا مظہر ہے۔

24 اکتوبر سے شروع ہونے والا یہ فیسٹیول 30 اکتوبر تک جاری رہے گا، افتتاحی تقریب میں کمشنر قلات ڈویژن ڈاکٹر طفیل بلوچ، ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی، ایس ایس پی خضدار شہزاد عمر بابر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کی نئی نسل امید، استقامت اور ترقی کی نئی پہچان، درست رہنمائی ناگزیر

اس موقع پر اساتذہ، تعلیمی اداروں کے سربراہان اور طلبہ بھی بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئے۔

خضدار: جناح اسٹیڈیم میں ضلعی انتظامیہ کے زیرِ اہتمام پہلی بار بک فیئر،اسپورٹس اینڈکلچرل فیسٹیول2025کاانعقاد۔
افتتاح کمشنرقلات ڈاکٹر طفیل بلوچ اورڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نےکیا۔
تین روزہ فیسٹیول میں کتابوں، کھیلوں اور ثقافتی رنگوں کے دلچسپ مظاہرے،طلبا و خواتین کی بھرپور شرکت۔ pic.

twitter.com/ex3jgn9m8M

— Salman Baloch (@SherBaz65833096) October 28, 2025

اس میلے نے خضدار کو نوجوان توانائی کے مرکز میں بدل دیا۔ کتابوں کے شوقین اور ڈیجیٹل دور کے قارئین نے ادب اور تاریخ سے متعلق مختلف اسٹالز کا رخ کیا، جبکہ طلبہ نے مصوری، خطاطی اور ماحولیاتی آگاہی سے متعلق منصوبے پیش کرکے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

بلوچستان کی نئی نسل نے نہ صرف علم سے اپنی وابستگی ظاہر کی بلکہ جدت، پائیداری اور ثقافتی ورثے سے اپنی گہری وابستگی کا بھی ثبوت دیا۔

خواتین کاروباری شخصیات نے روایتی بلوچی لباس اور کھانوں کے اسٹال لگائے، جبکہ نوجوان فنکاروں نے روایتی فنون کو جدید تخلیقی انداز میں پیش کیا۔ مقامی لوک فنکاروں کی موسیقی نے فیسٹیول میں رنگ بھر دیے، جو ورثے اور جدید امنگوں کے حسین امتزاج کی علامت بن گئی۔

کمشنر ڈاکٹر طفیل بلوچ نے اس میلے کو خضدار کے بدلتے ہوئے سماجی ڈھانچے کا عکاس قرار دیا، جہاں تعلیم یافتہ اور پُراعتماد نوجوان امن و ترقی کے سفیر بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جب نوجوان علم و ثقافت سے جڑ جاتے ہیں تو ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں رہتی۔

ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے کہاکہ یہ فیسٹیول خضدار کے نوجوانوں کے لیے تفریح اور سیکھنے کے نئے مواقع فراہم کر رہا ہے، خصوصاً جنریشن زی کے طلبہ کے لیے جو ٹیکنالوجی سے واقف، سماجی شعور رکھنے والے اور بلوچستان کا مثبت تشخص قومی و عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے خواہاں ہیں۔

فٹ بال، کرکٹ اور والی بال کے مقابلوں سے لے کر مقامی فنکاروں کی موسیقی کی محفلوں تک، فیسٹیول نے بلوچستان میں نوجوانوں کے بااختیار ہونے کے ایک نئے باب کا آغاز کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کی نئی نسل امید، استقامت اور ترقی کی نئی پہچان، درست رہنمائی ناگزیر

یہ فیسٹیول 24 اکتوبر سے شروع ہوا اور 30 اکتوبر تک جاری رہے گا، جس میں نوجوان طلبہ اور خواتین کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے، جو خضدار کو بلوچستان میں ثقافتی اور فکری احیا کے ایک نئے مرکز کے طور پر ابھارتا ہوا دکھا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان ثقافتی فیسٹیول کتاب میلہ وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان ثقافتی فیسٹیول وی نیوز بلوچستان کی اور ثقافتی کی نئی

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں ایرانی پیٹرول کی نئی قیمت 280 روپے فی لیٹر مقرر
  • فیفا ورلڈکپ 2026 میں نافذ کیے جانے والے نئے قوانین کیا ہیں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار