افغان مہاجرین کیخلاف کارروائیاں تیز کر دی جائینگی، ڈی سی کوئٹہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
ڈی سی کوئٹہ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ افغان شہریوں کی واپسی کے عمل کو انسانی ہمدردی، قانونی ضوابط اور حکومتی پالیسی کے مطابق انجام دے رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ضلعی انتظامیہ نے افغان مہاجرین کے انخلاء کے تیسرے مرحلے کے دوران اب تک ضلع کوئٹہ سے 35 ہزار سے زائد افغان مہاجرین کو واپس ان کے وطن بھجوا دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے مطابق حکومت پاکستان کی ہدایت پر شروع کی گئی واپسی مہم کو مرحلہ وار منظم انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع کوئٹہ میں بڑی تعداد میں افغان شہری کاروبار اور دیگر پیشوں سے وابستہ ہیں، جنہیں اپنے کاروباری اور گھریلو معاملات نمٹانے کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔ ڈی سی کوئٹہ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ افغان شہریوں کی واپسی کے عمل کو انسانی ہمدردی، قانونی ضوابط اور حکومتی پالیسی کے مطابق انجام دے رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ کی ترجیح یہ ہے کہ واپسی کا عمل پرامن، شفاف اور منظم ہو تاکہ کسی بھی فریق کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ آئندہ چند دنوں میں افغان مہاجرین کی واپسی میں مزید تیزی آئے گی، جس کے لیے ضلعی سطح پر تمام ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔ انتظامیہ نے سرحدی راستوں پر سہولتی مراکز بھی قائم کر دیئے ہیں۔ تاکہ رجسٹریشن، تصدیق اور سفر کے مراحل میں آسانی پیدا کی جا سکے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ یہ قومی مہم کسی رکاؤٹ کے بغیر کامیابی سے مکمل ہو سکے۔ ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں۔ جبکہ اب تک درجنوں غیر قانونی کیمپ بھی خالی کرائے جا چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ضلعی انتظامیہ افغان مہاجرین کے مطابق
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔