افغانستان کی سیمی فائنل میں رسائی، فیصلہ آج انگلینڈ اور جنوبی افریقا کے میچ سے ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں افغانستان کی سیمی فائنل میں رسائی کا دارومدار آج انگلینڈ اور جنوبی افریقا کے میچ کے نتیجے پر ہے۔
گزشتہ روز بارش کے باعث افغانستان اور آسٹریلیا کا میچ منسوخ ہونے سے دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ ملا جس سے آسٹریلیا سیمی فائنل میں پہنچ گیا جبکہ افغانستان کی امیدیں مدھم پڑ گئیں۔
افغانستان کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ انگلینڈ جو پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکا ہے، جنوبی افریقا کو بڑے مارجن سے شکست دے۔ مثال کے طور پر اگر انگلینڈ 301 رنز کا ہدف دیتا ہے تو اسے جنوبی افریقا کو 207 رنز سے ہرانا ہوگا تاکہ جنوبی افریقا کا نیٹ رن ریٹ افغانستان سے کم ہو جائے۔ یہ ایک مشکل کام ہے لیکن یہی افغانستان کی سیمی فائنل میں پہنچنے کی واحد امید ہے۔
دوسری جانب اگر انگلینڈ اور جنوبی افریقا کا میچ بارش کے باعث منسوخ ہوتا ہے تو جنوبی افریقا ایک پوائنٹ حاصل کرکے سیمی فائنل میں پہنچ جائے گا۔ اس صورتحال میں افغانستان کی سیمی فائنل میں رسائی ممکن نہیں رہے گی۔
گروپ اے سے بھارت اور نیوزی لینڈ پہلے ہی سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: افغانستان کی سیمی فائنل میں جنوبی افریقا
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔