ایران کے جدید ترین بغیر پائلٹ اسٹیلتھ جنگی طیارے ''جاس 313'' کے بارے میں جانیئے
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
دو مختلف سائز کے دونوں ڈرون طیاروں نے 6 فروری کو ڈرون بردار بحری جہاز سے پرواز کی۔ پاسداران انقلاب بحریہ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل علی رضا تنگسیری نے اس موقع پر کہا کہ JAS 313 کا بڑا ورژن ایک جدید انجن سے لیس جیٹ ہے جو اسے زیادہ رفتار پر فوجی مشنز انجام دینے کے قابل بناتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ بغیر پائلٹ جنگی طیارہ ایک گھنٹے تک مسلسل پرواز کر سکتا ہے اور اسے بنیادی طور پر جاسوسی اور بمباری مشنز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ ماہ ایران نے ایک ڈرون بردار بحری جہاز کی رونمائی کر کے مغربی طاقتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ شہید باقری ڈرون بردار بحری جہاز 6 فروری کو سپاہ پاسداران انقلاب کے بحری بیڑے میں شامل ہوا۔ رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ میں شامل ہونے والے "شہید باقری" ڈرون بردار بحری جہاز میں دو جدید بغیر پائلٹ اسٹیلتھ جنگی طیاروں اور جنگی آلات سے لیس کر دیا گیا ہے۔
یہ جدید ڈرون بردار جنگی بحری جہاز 6 فروری کو ایرانی بحریہ کے بیڑے میں شامل ہوا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد سمندری فضائی کارروائیوں میں ڈرون اور ہیلی کاپٹر مشنز کو انجام دینا ہے۔
یہ بحری جہاز ایران میں تیار کردہ اسٹیلتھ جنگی طیارے "قاہر 313" بغیر پائلٹ ورژن کے دو ماڈلز سے لیس ہے۔ اس جدید بغیر پائلٹ جنگی طیارے کو "JAS 313" کا نام دیا گیا ہے، جو جیٹ انجن سے لیس ہے۔
دو مختلف سائز کے دونوں ڈرون طیاروں نے 6 فروری کو ڈرون بردار بحری جہاز سے پرواز کی۔ پاسداران انقلاب بحریہ کے کمانڈر ریئر ایڈمرل علی رضا تنگسیری نے اس موقع پر کہا کہ JAS 313 کا بڑا ورژن ایک جدید انجن سے لیس جیٹ ہے جو اسے زیادہ رفتار پر فوجی مشنز انجام دینے کے قابل بناتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ بغیر پائلٹ جنگی طیارہ ایک گھنٹے تک مسلسل پرواز کر سکتا ہے اور اسے بنیادی طور پر جاسوسی اور بمباری مشنز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے اپنا مقامی سطح پر تیار کردہ اسٹیلتھ جنگی طیارہ قاہر-313 فروری 2013ء میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں متعارف کرایا تھا۔ یہ سنگل سیٹ جنگی طیارہ مختصر رن وے سے اڑان بھرنے اور لینڈنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 18 فروری 2023ء کو ایران کی وزارت دفاع کے ذیلی ادارے ایران ایوی ایشن انڈسٹریز آرگنائزیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر نے ایک انٹرویو میں اعلان کیا تھا کہ قاہر طیارہ تکنیکی پختگی کو پہنچ چکا ہے، اسے انسان بردار طیارے کی بجائے بغیر پائلٹ طیارے کے طور پر ڈھال دیا جائے گا۔ دو سال بعد فروری 2025ء کو قاہر کے دو ورژن سامنے آئے۔ ایک سائز میں بڑا اور دوسرا چھوٹا ہے۔ ان ڈرونز کو شہید باقری ڈرون کیرئیر پر تعینات کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈرون بردار بحری جہاز پاسداران انقلاب بغیر پائلٹ جنگی طیارہ فروری کو سے لیس گیا ہے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔