بنوں کینٹ پر 4 مارچ کو دہشتگردوں کا حملہ، سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی 16 خارجی ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بنوں کینٹ پر 4 مارچ کو دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا۔ دہشتگردوں نے بارود سے بھری گاڑیاں دیوار سے ٹکرا دیں جبکہ سیکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی میں 16 دہشت گرد ہلاک کر دیے ہیں۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کارروائی میں 4 خودکش بمبار بھی مارے گئے، جوابی کارروائی میں 5 بہادر فوجی شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ حملے کے نتیجے میں مسجد اور رہائشی عمارت کو شدید نقصان، 13 معصوم شہری شہید، 32 زخمی ہوئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق حملے میں افغان شہری ملوث ہیں۔ منصوبہ بندی افغانستان میں موجود خوارج رہنماؤں نے کی۔ پاکستان نے افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ پاک فوج دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ بہادر شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایس پی آر افغانستان بنوں کینٹ خارجی دہشتگرد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر افغانستان بنوں کینٹ خارجی دہشتگرد کے لیے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔