’سیف علی خان اور کرینہ کپور میں طلاق ہونے والی ہے‘، نجومی کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, March 2025 GMT
کیا بالی ووڈ اسٹار سیف علی خان اور کرینہ کپور کی طلاق ہونے والی ہے؟ مشہور نجومی نے پیش گوئی کر دی۔
بالی ووڈ کی مقبول ترین جوڑی سیف علی خان اور کرینہ کپور کے بارے میں ایک حیران کن پیش گوئی سامنے آئی ہے جس کے مطابق دونوں جلد علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں۔
مشہور نجومی سشیل کمار سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگلے 18 مہینوں میں سیف اور کرینہ کے درمیان طلاق ہو جائے گی۔
یہ پیشگوئی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ان کے تعلقات کے بارے میں پہلے ہی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، خاص طور پر سیف علی خان پر چاقو حملے کے بعد جس کے دوران کرینہ کپور ان کے ساتھ نظر نہیں آئیں۔
سیف علی خان پر حملے کے بعد جب انہیں اسپتال لے جایا گیا تو مداحوں نے فوراً اس بات پر توجہ دی کہ کرینہ نہ تو ان کے ساتھ اسپتال گئیں اور نہ ہی ان کی عیادت کے لیے دیکھی گئیں۔
اس رویے پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور اس پیش گوئی نے ان کی شادی سے متعلق افواہوں کو مزید ہوا دی ہے۔
سشیل کمار سنگھ نے ایک شو میں گفتگو کے دوران کہا کہ میں نے 2010ء میں ہی پیش گوئی کر دی تھی کہ سیف اور کرینہ کی شادی زیادہ عرصے تک نہیں چلے گی۔
نجومی کا کہنا ہے کہ حالیہ حملہ اندرونی خاندانی تنازعات کا نتیجہ ہو سکتا ہے اور یہی اختلافات طلاق کی بڑی وجہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے زائچوں میں صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ رشتہ ایک سال یا ڈیڑھ سال کے اندر ختم ہو جائے گا، چاہے وہ اس معاملے کو جتنا بھی دبانے کی کوشش کریں، علیحدگی یقینی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سشیل کمار سنگھ نے سیف پر چاقو حملے کو بھی ایک سوچا سمجھا منصوبہ اور ڈرامہ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ حملہ زیادہ سنگین نوعیت کا نہیں تھا۔
پیش گوئی سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے، تاہم سیف علی خان اور کرینہ کپور نے اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سیف علی خان اور کرینہ کپور پیش گوئی
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔