ڈی جی خان، بارڈر چیک پوسٹ پر خوارجی دہشتگردوں کا ایک اور حملہ ناکام بنا دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں بارڈر چیک پوسٹ پر خوارجی دہشت گردوں کا ایک اور حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق کہا کہ 15 سے 20 دہشت گردوں نے سرحدی چوکی لکھانی پر سحری کے وقت حملہ کیا، خیبرپختونخوا سے دہشت گرد ٹولیوں کی صورت میں حملہ آور ہوئے، دہشت گردوں نے حملے میں راکٹوں سمیت بھاری ہتھیار استعمال کیے۔
انہوں نے بتایا کہ جوانوں کے الرٹ ہونے کے سبب تھرمل امیج کیمروں سے دہشت گردوں کی نشاندہی کی گئی اور پولیس نے مشین گنز اور مارٹر سے دہشت گردوں کے خلاف جوابی کارروائی کی جس کے باعث دہشت گرد چیک پوسٹ کے قریب پہنچنے میں ناکام اور پسپائی پر مجبور ہوگئے۔
ترقیاتی منصوبوں کے معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا:وزیراعلیٰ مریم نواز
ترجمان کا کہنا تھا کہ جوابی کارروائی میں دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
آئی جی پنجاب نے حملہ پسپا کرنے والے جوانوں کو شاباش دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو ہر محاذ پر شکست دیں گے۔
واضح رہے کہ 6 روز قبل بھی خوارجی دہشت گردوں کا چیک پوسٹ لکھانی پر حملہ ناکام بنایا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: چیک پوسٹ
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔