پی ٹی آئی کے گرفتار سینیٹر عون بپی ایوانِ بالا پہنچ گئے، چیئرمین سینیٹ سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
ویب ڈیسک: پی ٹی آئی کے گرفتار سینیٹر عون عباس بپی ایوان بالا پہنچ گئے جہاں انہیں سینیٹ کے سارجنٹ ایٹ آرمز کے حوالے کیا گیا۔
بعد ازاں عون عباس بپی نے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر شبلی فراز بھی موجود تھے۔ عون عباس بپی نے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر چیئرمین سینیٹ کا شکریہ ادا کیا۔
ایوان بالا آمد کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عون بپی سے سوال کیا گیا کہ پنجاب پولیس کا کیا رویہ تھا، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ کوئی خاص نہیں، بس 12 گھنٹے سفر کرنے کے بعد ڈالے میں تھوڑی طبیعت ضرور خراب ہوئی ہے۔ باقی سب ٹھیک ہے، آپ کو اندازہ ہے۔ صحافی کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ ڈالا سفید رنگ کا تھا۔
26 نومبر احتجاج کیس؛ پی ٹی آئی کارکنوں کی درخواست ضمانت پر فریقین کونوٹس جاری
صحافی نے پوچھا کہ آپ کو پیش کیا گیا ہے، اعجاز چوہدری کو پیش نہیں کیا گیا، کیا آپ کو متنازع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے یا آپ کو کسی چھترچھایا میں رکھا گیا ہے کہ آپ کو فوری پیش کردیا، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میرا خیال ہے کہ یہ گیلانی صاحب کے لیے اسپیس بنائی گئی ہے، شاید میرے لیے سافٹ کارنر، کیوں کہ گیلانی صاحب نے ایک اصولی اقدام کیا ہے، یقیناً میرے پروڈکشن آرڈر پر عمل کرکے انہیں راضی کیا گیا ہے، ہماری حکمت عملی ابھی آپ کو پتا چل جائے گی۔
ملکی و غیر ملکی ایئر لائنز انتظامیہ کیلئے نئی پریشانی کھڑی، اہم مراسلہ جاری
بعد ازاں عون عباس بپی نے سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھا لیا۔ ان کے علاوہ نومنتخب سینیٹر اسد قاسم نے بھی رکنیت کا حلف اٹھایا۔ واضح رہے کہ اسد قاسم سابق سینیٹر قاسم رونجھو کے بیٹے ہیں جو آزاد حیثیت سے سینیٹ کے رکن بنے ہیں۔
حلف برداری کے بعد شیری رحمن نے وقفہ سوالات مؤخر کرنے کی تحریک پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: عون عباس بپی کیا گیا
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔