پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کھیلنے کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں پر وضاحت دے دی نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کے دوران میزبان نے عامر سے سوال کیا کہ وہ جلد برطانوی پاسپورٹ حاصل کرلیں گے، جس کے بعد ان کے لیے آئی پی ایل میں شرکت ممکن ہو جائے گی، تو کیا وہ اس لیگ میں کھیلنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ اس پر محمد عامر نے دوٹوک جواب دیا کہ اگر انہیں اگلے سال آئی پی ایل میں کھیلنے کا موقع ملا تو وہ ضرور کھیلیں گے میزبان تابش ہاشمی نے مزید پوچھا کہ اگر پاکستان میں آئی پی ایل کھیلنے پر تنقید کی گئی تو ان کا ردعمل کیا ہوگا؟ جس پر عامر نے واضح کیا کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں اس لیے یہ معاملہ ان کا ذاتی فیصلہ ہوگا انہوں نے اشاروں میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں پاکستانی کرکٹرز پر آئی پی ایل کھیلنے کی پابندی تھی مگر ہمارے سابق کرکٹرز اس لیگ میں کمنٹری اور کوچنگ کرتے رہے محمد عامر نے انڈین پریمیئر لیگ کی فرنچائز رائل چیلنجر بنگلور (آر سی بی) میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ٹیم کی نمائندگی کرنا پسند کریں گے اس موقع پر شو میں موجود ان کے ساتھی احمد شہزاد نے بھی عامر کی حمایت کی اور کہا کہ آر سی بی کو اپنی بولنگ لائن مضبوط کرنے کے لیے عامر جیسے تجربہ کار فاسٹ بولر کی ضرورت ہے، جو ٹیم کو پہلا ٹائٹل جتوانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: آئی پی ایل

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے