چیمپیئنز ٹرافی 2025 کے لیے سب سے زیادہ سفر نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے کیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی میں سب سے زیادہ سفر گروپ اے سے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کو شکست دے کر فائنل میں پہنچنے والی ٹیم نیوزی لینڈ نے اپنے میچز کے لیے سب سے زیادہ 7 ہزار 48 کلو میٹر کا سفر کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے فائنل تک رسائی سے قبل کراچی، راولپنڈی، دبئی، لاہور اور پھر دبئی کا سفر کیا، تاہم فائنل کی دوسری ٹیم بھارت کا قیام اور تمام میچز دبئی میں ہی کھیلے گئے۔
مزید پڑھیں: چیمپیئنز ٹرافی 2025 فائنل: بھارت اور نیوزی لینڈ کا ہیڈ ٹو ہیڈ ریکارڈ
انگلینڈ نے تمام میچز پاکستان میں کھیلے اور انگلینڈ کا سفر 1020 کلومیٹر رہا۔ افغانستان نے کراچی اور لاہور 2 میچز کے لیے 1200 کلومیٹر سفر کیا۔ بنگلا دیش نے پہلا میچ دبئی، پھر راولپنڈی میں 2 میچز کے لیے قریباً ایک ہزار 53 کلو میٹر سفر کیا۔
آسٹریلیا نے لاہور، راولپنڈی اور دبئی میں میچز کے لیے 2509 کلومیٹر جبکہ جنوبی افریقا نے 4 میچز کے لیے 5 فلائٹس لیں اور قریباً 3286 کلومیٹر سفر کیا۔ میزبان ملک پاکستان نے دبئی، کراچی اور راولپنڈی میں میچز کے لیے 3133 کلو میٹر سفر کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی بنگلہ دیش پاکستان دبئی کراچی راولپنڈی لاہور نیوزی لینڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی بنگلہ دیش پاکستان کراچی راولپنڈی لاہور نیوزی لینڈ چیمپیئنز ٹرافی میچز کے لیے نیوزی لینڈ سفر کیا
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔