پاکستان میں بڑھتی دہشتگردی
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جسمیں تازہ ترین مسائل کے بارے نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کیجاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںہفتہ وار تجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع: پاکستان میں بڑھتی ہو ئی دہشت گردی کی لہر
The Growing Wave of Terrorism in Pakistan
مہمان: سید کاشف رضا (صحافی، تجزیہ نگار)
میزبان و پیشکش: سید انجم رضا
تاریخ: 9 مارچ 2025
پاکستان نے حالیہ مہینوں میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں تیز اضافہ دیکھا ہے،
جو قومی سلامتی، معاشی استحکام، اور علاقائی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
خیبر پختونخوااور خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں عسکریت پسندی کی بحالی نے سیکیورٹی اداروں اور پالیسی سازوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ دہشت گردی کی اس بڑھتی ہوئی لہر کو مختلف عوامل سے جوڑا جا رہا ہے
اہم نکات و خلاصہ گفتگو
پاکستان میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے جامع اور موثر پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے
دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں تسلسل بہت ضروری ہے
دہشت گردی کا عفریت جامع اور موثر پالیسیوں کے ذریعے ہی ختم ہوسکتا ہے
سیاسی عدم استحکام نے بھی دہشت گردوں دوبارہ مضبوط ہونے کا موقع دے دیا ہے
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں امن عامہ کی صورت بہت خوفناک ہوچکی ہے
پاکستان میں خوش فہمی تھی کہ أفغانستان میں تبدیلی بہتری پیدا کرے گی، مگر ایسا نہ ہوا
اٖفغانسان میں بھارتی قونصلیٹ بھی پاکستان میں کاروائیوں کے حوالے سے سرگرم ہیں
دہشت گردی خلاف ردِ عمل کی حکمت عملی کے بجائے پیشگی کاراوئی کا انداز اپنا نابہت ضروری ہے
دنیا بھر میں دہشت گردی سے نمٹنے کے انٹیلی جینس سرگرمیوں سے کام لیا جاتا ہے
پاکستان میں بھی انٹیلی جنس اداروں کا مزید فعال اور پرو ایکٹوو ہونا ضروری ہے
نیکٹا کو دوبارہ فعال اور متحرک کرنا بہت ضروری ہے
افغان ط ا ل ب ان حکومت دہشت گردوں کے سامنے بے بس نظر آتی ہے
جیو پولیٹکل وجوہات کی بنا بھی پہ افغان حکومت دہشت گروں کے خلاف اقدام کرنے سے گریزاں ہے
پاکستان میں اندرونی طور پہ بھی سیکورٹی ادارے اور پولیس، انٹیلی جینس ادارے ایک پیج پہ ہونا ضروری ہیں
شریف اللہ کی گرفتاری سے کستان اور امریکہ درمیان دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں تعاون کا اظہار ہے
ٹرمپ انتظامیہ نے فروری کے اواخر میں خصوصی استثنا کے ذریعے تین سو ملین ڈالر کی خصوصی امداد جاری کی ہے
لگتا ہے ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کو سیکورٹی ڈومین خصوصی اسٹیٹس دیا ہے
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان میں ضروری ہے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب