جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت بغیر کارروائی عید کے بعد تک ملتوی، وکلا حیران
اشاعت کی تاریخ: 12th, March 2025 GMT
راولپنڈی:
جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے عید کے بعد تک ملتوی کردی گئی، جس پر وکلا اور ملزمان حیران ہوگئے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کے روبرو جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت آج مقرر تھی، جس میں ملزمان، سرکاری پراسیکیوٹر اور وکلائے صفائی پیش ہوئے، تاہم عدالت نے سماعت بغیر کسی کارروائی کے 9 اپریل تک ملتوی کردی۔
دوران سماعت کمرہ عدالت میں موجود کسی بھی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں ہو سکا۔ عدالتی حکم کے بعد جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اب عید الفطر کے بعد ہوگی۔ قبل ازیں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہو رہی تھی، تاہم اب عدالت نے 28 دن کے لیے سماعت ملتوی کردی، جس پر وکلائے صفائی اور ملزمان حیرت کا اظہار کرتے رہے۔
عدالت نے ملزمان کو حاضری لگا کر جانے کی اجازت دی۔ واضح رہے کہ جی ایچ کیو حملہ کیس میں اب تک استغاثہ کے 25 گواہان کے بیانات قلم بند کیے جا چکے ہیں۔
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل صفائی فیصل ملک نے بتایا کہ سماعت 9 اپریل تک ملتوی ہوگئی۔ 26 نومبر احتجاج کیسز میں کل 1088 کارکن گرفتار تھے، 200 کی کل ضمانتیں منظور ہوئیں۔ تمام گرفتار شدگان کی ضمانتیں دائر کردی گئی ہیں۔
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھی عدالت پہنچےا ور بتایا کہ عمرے سے آج صبح ہی واپس پہنچا اور عدالت حاضر ہوگیا۔ پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار بھی عدالت پہنچیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت تک ملتوی کے بعد
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :