اسلحہ لائسنس کی ویری فکیشن کے حوالے سے محکمہ داخلہ کا بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
لاہور:
اسلحہ لائسنس کی ویری فکیشن کے حوالے سے محکمہ داخلہ نے بڑا فیصلہ کرلیا اور نادرا کو تمام اسلحہ لائسنسز کی آن لائن ویری فکیشن کے لیے کیو آر کوڈ جاری کرنے کی ہدایت جاری کردی۔
کیو آر کوڈ کی مدد سے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر اسلحہ لائسنس کی تصدیق کر سکیں گے۔
سیکرٹری داخلہ پنجاب کی زیرِ صدارت اسلحہ لائسنس ویری فکیشن کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا، جس میں اسپیشل سیکرٹری داخلہ فضل الرحمن، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ (جوڈیشل) عمران حسین رانجھا اور نادرا حکام نے شرکت کیی۔
سیکرٹری داخلہ نے اسلحہ لائسنسز کے ساتھ کیو آر کوڈ لگانے کے لیے نادرا کو ایک ہفتے کا وقت دے دیا اور ساتھ ہی نادرا کو تمام اسلحہ لائسنسز متعلقہ شخص کے شناختی کارڈ سے لنک کرنے کی بھی ہدایت کی۔
پنجاب بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو بھی اسلحہ لائسنس سے متعلقہ تمام آرڈرز پر کیو آر کوڈ دینے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ اسلحہ لائسنسز کے تصدیقی عمل میں شفافیت سے جعلی لائسنسز کی بیخ کنی ہوگی۔
سیکرٹری داخلہ پنجاب نے اس حوالے سے کہا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد اسلحہ لائسنس کے لیے نااہل ہیں۔ آرمز رولز میں ترامیم کر کے شہریوں کے لیے سہولت پیدا کر رہے ہیں۔ انفرادی اسلحہ لائسنس اور بزنس آرمز لائسنس رولز کو عام فہم بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلحہ لائسنس کی ویری فکیشن کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف مانیٹرنگ کا کردار بڑھا رہے ہیں۔ اسلحہ لائسنس کے حصول اور تجدید کے لیے فیسوں کا شیڈول تبدیل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلحہ لائسنسز سیکرٹری داخلہ اسلحہ لائسنس کیو آر کوڈ لائسنس کی حوالے سے کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔