بولان جعفر ایکسپریس حملے میں شہید ہونے والے 4  شہدا کی میتیں آسلام آباد ایئرپورٹ پہنچا دی گئیں۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب آہنگی سردار محمد یوسف نے میتیں وصول کیں۔

یہ بھی پڑھیں: جعفر ایکسپریس حملہ: سیکیورٹی فورسز کا آپریشن مکمل، تمام دہشتگرد ہلاک، 21 مسافر اور 4 جوان شہید

ائیرپورٹ پر شہدا  کے اہل خانہ و اہل علاقہ بھی موجود تھے۔ چاروں افراد جعفر ایکسپریس حملے میں شہید ہوئے۔

 ان میں سے شہید محمد ممتاز کا تعلق مانسہرہ سے، نوزے علی کا گانچھے گلگت بلتستان، محمد عثمان کا اٹک اور محمد امتیاز کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔  امتیاز ریلوے کے ملازم تھے۔

چاروں شہدا جعفر ایکسپریس حملے میں دہشتگردوں کی جانب سے بنائے گئے یرغمالیوں میں شامل تھے۔ ٹرین ہائی جیکنگ کے اس بڑے حادثے میں ان چاروں سمیت کل 17 افراد شہید ہوئے۔ چاروں شہدا کے جسد خاکی ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کردیے گئے۔

مزید پڑھیے: جعفر ایکسپریس حملہ: ٹرین کا ڈرائیور معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا

دریں اثنا وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے چاروں شہدا کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے آسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان، وزیراعظم شہباز شریف اور پوری قوم شہدا کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہدا اور ان کے اہلخانہ کی دفاع وطن اور امن  و استحکام کے لیے قربانیوں کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی یہ قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی۔

سردار محمد یوسف نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم کی طرف سے یہ 4 میتیں وصول کی ہیں۔

مزید پڑھیں: جعفر ایکسپریس حملہ : اقوام متحدہ، چین اور امریکا کی مذمت

انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے نہتے شہریوں پر بزدلانہ حملہ کر کے انہیں شہید کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہدا کے لواحقین کا حوصلے بلند ہیں اور انہوں نے پیغام دیا ہے کہ دہشتگردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور افواج پاکستان مل کر دہشتگردی کے عفریت کا مقابلہ کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرین ہائی جیکنگ جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ جعفر ایکسریس شہدا سانحہ جعفر ایکسپریس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹرین ہائی جیکنگ جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ جعفر ایکسریس شہدا سانحہ جعفر ایکسپریس سردار محمد یوسف نے جعفر ایکسپریس انہوں نے شہدا کے کہا کہ

پڑھیں:

افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم

افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA

— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026

اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔

آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سیلاب نورستان

متعلقہ مضامین

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا میرپور آزاد کشمیر کے لیے ایئرپورٹ، الیکٹرک بسوں اور ترقیاتی منصوبوں کا اعلان
  • جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مشکوک سفری دستاویزات کی بنیاد پر مسافر آف لوڈ
  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس