’دہشتگردوں کیساتھ اور ان کے سہولت کاروں کو بھی ختم کر دیا جائیگا‘ اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف جعفر ایکسپریس پر دہشتگردوں کے حملے کو ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ہر کوشش کا پوری طاقت سے مقابلہ کیا جائے گا۔ پاکستان کی مسلح افواج نے پہلے ہی بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے یرغمالیوں کو بازیاب کرایا اور دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ ذمہ داروں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کو بغیر کسی ہچکچاہٹ یا رحم کے شکار کرکے ختم کردیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:دہشتگردوں کی کارروائیوں کو بلوچیت سے جوڑنا غلط ہے، سرفراز بگٹی
وہ دورہ کوئٹہ کے موقع پر ہونے والے اعلیٰ سطحی سیکیورٹی کانفرنس خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر، نائب وزیرخارجہ اسحاق ڈار سمیت دیگر سول اور ملٹری قیادت بھی موجود تھی۔
جعفر ایکسپریس پر حملہ ناقابل معافی جرموزیراعظم نے جعفر ایکسپریس پر حملے کو ناقابل معافی جرم قرار دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ معصوم شہریوں کے خلاف دانستہ طور پر اس طرح کی غیر انسانی کارروائیاں ان ملک دشمن باغیوں کی اصلیت اور ان کے دکھاوے کو بے نقاب کرتی ہیں۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ثابت قدم عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کی غداری کے ذریعے ہمارے وطن کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کا ریاست کی پوری طاقت سے مقابلہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:وطن کے لیے جان کی بازی لگانے والوں کیخلاف ہرزہ سرائی کی اجازت نہیں دینگے، وزیراعظم
انہوں نے کہا کہ یہ محض عسکریت پسند تنظیم کے خلاف جنگ نہیں ہے بلکہ لاقانونیت اور مایوسی کے نظریے کے خلاف جنگ ہے۔ اجلاس میں دشمن عناصر کو سماجی فضا کو خراب کرنے سے روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گیوزیراعظم نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے بہادر افسران و جوانوں سے ملاقات کی اور سیکیورٹی فورسز کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔
انہوں نے شہدا کے سوگوار خاندانوں کو ریاست کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
زیرو ٹالرنس پالیسیشرکا نے دہشت گردی کی تمام قسموں اور مظاہر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کو برقرار رکھنے کے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین و نمائندگان، وفاقی و صوبائی وزراء، سرکاری افسران اور کانفرنس کے شرکاء نے متفقہ طور پر جعفر ایکسپریس پر دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائی کی مذمت کی اور شہدا کی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے لیے فاتحہ خوانی کی۔
بریفنگبریفنگ کے دوران شرکا کو بلوچستان میں سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال، دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں اور جعفر ایکسپریس حملے سے متعلق حالیہ آپریشن کے کامیاب انعقاد کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔
بعد ازاں، وزیراعظم اور آرمی چیف نے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے زخمیوں اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔
قبل ازیں وزیراعظم کا کوئٹہ پہنچنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان اور آرمی چیف نے پرتپاک استقبال کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرمی چیف دہشتگرد شہبازشریف عاصم منیر کوئٹہ وزیراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رمی چیف دہشتگرد شہبازشریف کوئٹہ جعفر ایکسپریس پر انہوں نے کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :