گلوکارہ نصیبو لال نے شوہر کیخلاف مقدمہ درج کروا دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
پنجابی گلوکارہ نصیبو لال نے تشدد کے الزام میں شوہر کیخلاف مقدمہ درج کروا دیا۔
رپورٹ کے مطابق گلوکارہ نصیبو لال شوہر نے شوہر کے تشدد کا نشانہ بننے پر اس کیخلاف مقدمہ درج کروا دیا ہے۔
شاہدرہ ٹاؤن کے علاقے میں رہنے والی گلوکارہ نے ایف آئی آر میں شکایت درج کروائی کہ وہ گھر کے صحن میں بیٹھی ہوئیں تھیں اور اسی دوران ان کے خاوند نوید حسین گھر آیا اور ان کے ساتھ گالی گلوچ شروع کردی۔
انہوں نے بتایا کہ خاوند نے نزدیک پڑی ہوئی اینٹ اٹھا کر ان کے چہرے پر ماری جس کے نتیجے میں ان کے چہرے کی بائیں سائیڈ اور ناک پر شدید چوٹیں آئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گلوکارہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور جلد ملزم کو گرفتار کر لیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی