دہشت گردوں کیخلاف آپریشنز میں تیزی لانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, March 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کو پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی میں تبدیل کرکے بند کمرہ مشترکہ اجلاس بلانے پر مشاورت شروع کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادت اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہ کو مدعو کیا جائے گا۔ وفاقی وزراء سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان بھی شریک ہوں گے۔ عسکری قیادت خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کی وجوہات پر بریفنگ دے گی۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پاکستان نے دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے پیش نظر دہشت گردوں کیخلاف آپریشنز میں تیزی لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے حکومت نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کو پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی میں تبدیل کرکے بند کمرہ مشترکہ اجلاس بلانے پر مشاورت شروع کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادت اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہ کو مدعو کیا جائے گا۔ وفاقی وزراء سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان بھی شریک ہوں گے۔ عسکری قیادت خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کی وجوہات پر بریفنگ دے گی۔ ان کیمرہ اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ کے سوالات کے جواب بھی دیئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشنز میں تیزی لانے سے متعلق فیصلے متوقع ہیں۔ اجلاس میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی نیشنل ایکشن پلان ٹو کی تجویز کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عسکری قیادت اجلاس میں
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔