عید کی خوشیاں دوبالا: صدر نے عیدالفطر کی چھٹیاں ایک ہفتے تک بڑھا دیں
اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT
مالے: مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیظو کی ہدایت پر عید الفطر کی تعطیلات میں غیرمعمولی توسیع کا اعلان کر دیا گیا، جس کے تحت عوام کو پورا ہفتہ عید کی خوشیاں منانے کا موقع ملے گا۔
صدر کے دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق، اگر یکم شوال 31 مارچ 2025 کو ہوتا ہے، تو سرکاری دفاتر 31 مارچ سے 3 اپریل تک بند رہیں گے۔ تاہم، اگر عید 30 مارچ کو ہوتی ہے، تو تعطیلات 30 مارچ سے 1 اپریل تک ہوتیں، لیکن صدر معیظو نے فیصلہ کیا ہے کہ عوام کو 3 اپریل تک چھٹیاں دی جائیں گی، قطع نظر اس کے کہ عید کس دن ہو۔
اس کا مطلب ہے کہ 4 اور 5 اپریل کو جمعہ اور ہفتہ (مالدیپ کا روایتی ویک اینڈ) ہونے کے باعث، سرکاری دفاتر 6 اپریل 2025 سے کھلیں گے، اور عوام کو مسلسل ایک ہفتے کی عید کی چھٹیوں کا لطف اٹھانے کا موقع ملے گا۔
مزید برآں، صدر معیظو نے رمضان کے آخری 10 دنوں کے لیے بھی 20 مارچ سے سرکاری دفاتر بند کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ عوام عبادت اور مذہبی فرائض پر زیادہ توجہ دے سکیں۔
حکومت کے اس فیصلے سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ انہیں نہ صرف عید کا بھرپور موقع ملے گا بلکہ رمضان کے آخری لمحات میں بھی عبادت کا وقت میسر ہوگا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔