خیبرپختونخواہ کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے حملے، جوابی کارروائی میں حملہ آور فرار
اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT
پشاور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17 مارچ 2025)خیبرپختونخوا ہ کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے کئے گئے 3حملے پولیس کی بروقت کارروائی سے ناکام بنا دئیے گئے، لکی مروت کے تھانہ گمبیلا پر دہشت گردوں نے 10 سے 15 مسلح افراد کے ساتھ حملہ کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس کی جوابی کارروائی سے حملہ پسپا کر دیا گیا، ڈی پی او لکی مروت جواد اسحاق کے مطابق پولیس نے بڑے حملے کو بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا اور حملہ آور بھاری ہتھیاروں کی مدد سے فرار ہوگئے۔
پشاور میں بھی پولیس چوکی ملازئی پر دہشت گردوں نے دستی بم سے حملہ کیا جبکہ خیبر پولیس چوکی بائی پاس روڈ پر دہشت گردوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہو گئے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں حملہ آور زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔(جاری ہے)
زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ اسی دوران جمرود ایف سی چیک پوسٹ پر بھی شدت پسندوں نے حملہ کیا۔
ایف سی باڑہ رائفلز کی جوابی فائرنگ کے بعد حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی خیبرپختونخوا ہ کے مختلف اضلاع میں دہشتگردوں کے پولیس تھانوں اور چوکیوں پر حملے میں 4 اہلکاروں سمیت 5 افراد شہید ہوگئے تھے جبکہ جوابی کارروائی میں 4 دہشتگرد مارے گئے تھے۔ اسی طرح بلوچستان کے ضلع نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر ہونے والے خودکش حملے میں تین سیکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد شہید ہوگئے تھے۔تفصیلات کے مطابق کرک میں دہشتگرد حملے میں ایک پولیس اور ایک سیکورٹی گارڈ شہید جبکہ ایف سی کا جوان زخمی ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق دہشتگرد حملوں میں پولیس کے 4 اہلکار شہید ہوئے جبکہ 3 زخمی ہوئے اور جوابی حملوں میں 4 دہشت گرد مارے گئے تھے۔پشاور میں مفتی منیر شاکر بم دھماکے میں جاں بحق ہوئے جبکہ مہمند میں ممبر قومی اسمبلی پر فائرنگ کا واقعہ ہواتھا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ 16 مارچ کو ضلع نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے حملہ کیاگیا تھا جس کے نتیجے میں تین سیکیورٹی اہلکار اور دو معصوم شہری شہید ہوئے تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق جوابی کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا تعاقب کیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیاتھا۔ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ نوشکی خودکش حملے میں شہید ہونے والے اہلکاروں میں ضلع نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے 38 سالہ حوالدار منظور علی، ضلع نصیر آباد سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ حوالدار علی بلاول، ضلع بدین سے تعلق رکھنے والے 34 نائیک عبد الرحیم، کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سویلین ڈرائیور جلال الدین اور ضلع خاران سے تعلق رکھنے والے سویلین ڈرائیور محمد نعیم شامل تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سے تعلق رکھنے والے جوابی کارروائی حملے میں کے مطابق حملہ آور گئے تھے
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔