22مارچ کو موبائل فون سروس معطل کی جائیگی یا نہیں ؟ فیصلہ سامنے آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
یوم علیؓ کے موقع پر موبائل فون سروس معطل کرنے کے حوالے سے فیصلہ کرلیا گیا اور ڈبل سواری پر مشروط پابندی کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق امیر المومنین حضرت علی ؓ کا یوم شہادت 21 رمضان المبارک بمطابق 22مارچ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائے گا۔
سیکیورٹی کے پیش نظر موبائل فون سروس معطل کرنے کے حوالے سے فیصلہ کرلیا گیا، میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے رمضان المبارک کے 21 جلوسوں کے دوران موبائل سروس کو فعال رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم لاہور پولیس نے جلوسوں کے دوران ڈبل سواری پر مشروط پابندی کا مطالبہ کیا، ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ عوام کی حفاظت اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے 21 رمضان المبارک کے مرکزی جلوسوں سمیت اہم راستوں پر پابندی کا نفاذ کیا جائے گا۔
سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے لاہور شہر میں 8000 سے زائد پولیس افسران اور اہلکار تعینات کیے جائیں گے، ان افسران کو ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے سخت نگرانی اور ٹریفک کو کنٹرول کرتے ہوئے جلوسوں کے شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کا کام سونپا جائے گا۔یہ اقدامات ایسے اہم مذہبی تہواروں کے دوران امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
یاد رہے سندھ حکومت نے یوم حضرت علی (ع) کے موقع پر 22 مارچ بروز ہفتہ کو تمام تعلیمی اداروں میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے، اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے تصدیق شدہ چھٹی کا اطلاق تمام سرکاری اور نجی سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں پر ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔