یورپین اسپیس ایجنسی نے یوکلِڈ اسپیس ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والا پہلا ڈیٹا جاری کر دیا جس کے حوالے سے امید کی جارہی ہے کہ یہ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کو سمجھنے میں مدد دے گا۔

حاصل ہونے والے ابتدائی ڈیٹا میں آسمان کے تین ٹکڑے دکھائے گئے ہیں اور ہر حصے میں کہکشاؤں کے جتھے موجود تھے۔ عکس بند کیا گیا ہر حصہ دنیا سے دیکھے جانے والے چاند کے سائز سے 300 گُنا بڑا تھا۔

ایک تہائی آسمان کی اسکیننگ کے بعد یوکلِڈ سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ ٹیلی اسکوپ کائنات کا مکمل نقشہ تیار کر لے گی۔

2023 میں فلوریڈا سے چھ سالہ مشن پر لانچ کی جانے والی یوکلِڈ ایک مدار میں گھومتی آبزرویٹری ہے جو کائنات کے پھیلنے، وقت کے ساتھ اس کی ساخت تشکیل پانے، ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر کے متعلق معلومات بڑے پیمانے پر کششِ ثقل کے کردار کے حوالے سے ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہے۔

پیش کیا جانے والا ڈیٹا ایک ہفتے کے مشاہدے پر مبنی ہے جس میں تینوں خطوں کا ایک اسکین شامل ہے لیکن اس مشاہدے میں 10.

5 ارب نوری سال تک کے فاصلے پر 2 کروڑ 60 لاکھ کہکشاؤں کو دیکھا گیا۔

یورپی خلائی ایجنسی کے ڈائریکٹر آف سائنس اور آسٹروفزسسٹ کیرول میونڈیل نے یوکلِڈ کو ’ڈارک ڈیٹیکٹیو‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ہم کائنات کاتقریباً 5 فی صد حصہ سمجھتے ہیں۔ باقی 95 فی صد تاریک اور نامعلوم ہے۔

بدھ کے روز جاری کیے گئے مختلف شکل اور سائز کی 3 لاکھ 80 ہزار سے زائد کہکشاؤں پر مبنی پہلے تفصیلی کیٹلاگ کی حلزونی بازو اور مرکزی بار جیسی خصوصیات کے اعتبار سے درجہ بندی کی گئی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔

ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • گھر کے شیر باہر ڈھیر، ویمنز ٹیم ٹرائنگولر سیریز میں مشکلات کا شکار
  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان