Daily Mumtaz:
2026-06-03@04:48:19 GMT

وزراء کیلئے اچھی، یوٹیلیٹی سٹورزملازمین کیلئے بری خبر

اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT

وزراء کیلئے اچھی، یوٹیلیٹی سٹورزملازمین کیلئے بری خبر

اسلام آباد(طارق محمود سمیر )وفاقی وزراء ، وزرائے مملکت اور مشیروں کی تنخواہوں میں 159فیصد سے لیکر 188فیصد تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے اور وزراء کو عیدالفطر کی بڑی خوشخبری وزیراعظم نے سمری کی منظوری دیکر دی ہے۔ وزراء کی تنخواہ اور الائونسز بڑھ
کر اب مجموعی طور پر 5لاکھ 19ہزار روپے ماہانہ ہوگئے ہیں۔ اس سے قبل وفاقی وزیرکی تنخواہ 2لاکھ اور وزیر مملکت کی تنخواہ 1لاکھ 80روپے تھی ۔ وزراء کی یہ تنخواہ 12سال کے بعد بڑھائی گئی ہے۔ اس سے قبل ارکان پارلیمنٹ جن میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران شامل ہیں ان کی تنخواہیں بھی بڑھائی جا چکی ہیں اور اب وفاقی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں برابر ہوگئی ہیں ۔ تنخواہوں میں اضافے کا یہ سلسلہ پنجاب اسمبلی سے شروع ہوا تھا۔ ایک طرف ارکان پارلیمنٹ اور وزراء کی تنخواہوں میں بھاری اضافہ کیا جارہا ہے تو دوسری طرف افسوسناک امر یہ ہے کہ 1700 یوٹیلٹی اسٹورز بند کرنے، 6 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ وزیر خزانہ تحریری طور پر قومی اسمبلی آگاہ کر چکے ہیںکہ فی الحال سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الائونسز میں اضافے کی کوئی تجویز نہیں ہے ۔ حکومتی پالیسیوں میں اس حوالے سے بہت بڑا تضاد ہے ، ایک طرف وزیراعظم شہبازشریف اپنی تقاریر میں مسلسل یہ کہہ رہے ہیںکہ تنخواہ دار طبقے نے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کیا اور دوسری جانب ان کی کابینہ کے اہم وزیر اسمبلی میں تحریری طور پر یہ لکھ کر دے رہے ہیں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ زیر غور نہیں ہے، یہ کتنے افسوس کی بات ہے تین چار سال سے مہنگائی کی جو لہر آئی اس میں تنخواہ دار طبقہ پس کر رہ گیا ہے ، سرکاری ملازمین ہوں یا نجی شعبے کا تنخواہ دار طبقہ ہو اسے دو وقت کی روٹی کھانے کے لیے بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ بجلی اور دیگر یوٹیلٹی بلز میں جو اضافہ ہوا وہ بھی ناقابل برداشت ہے،ہم یہ نہیںکہتے کہ وزراء کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہونا چاہئے لیکن جس شرح سے یہ اضافہ ہوا ہے کیا اس کا نصف بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں حکومت اضافہ کرنے کے لیے تیار ہے؟ حال ہی میں کابینہ میں توسیع کی گئی اور کابینہ کے ارکان کی تعداد 55سے زائد ہو چکی ہے ،کیا یہ قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہے ، یوٹیلٹی سٹورزکے ملازمین کو ہزاروںکی تعداد میں بیروزگارکرنا کوئی درست عمل نہیں ہے ۔اگر یہ ادارہ خسارے میں ہے اور مبینہ طور پرکرپشن بھی ہو رہی ہے تو یہ ملازمین اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے ، ذمہ دار وزراء ، وفاقی سیکرٹریز ،مینجنگ ڈائریکٹرز اور دیگر سینئر افسران ہوں گے جو لاکھوں روپے کی تنخواہیں وصول کرتے رہے۔اداروں کو بند کرنا مسائل کا حل نہیں ہے اداروں کو درست سمت میں لانا ایک چیلنج بھی ہوتا ہے اور اس چیلنج کو جو قبول کرکے کامیاب ہو اسے ہی مقدرکا سکندر قرار دیا جاتا ہے ۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی تنخواہوں میں سرکاری ملازمین ملازمین کی کی تنخواہ وزراء کی نہیں ہے

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن