WE News:
2026-07-24@06:23:41 GMT

بلوچستان ماضی حال اور مستقبل

اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT

ماضی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر خوشیاں منائی جا سکتی ہیں، اس پر جشن منایا جا سکتا ہے یا پھر اس پر آنسو بہائے جا سکتے ہیں، اس پر ماتم کیا جا سکتا ہے مگر اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک آفاقی حقیقت ہے مگر بلوچستان کے حوالے سے یہ سچ زیادہ تکلیف دہ ہے۔

بلوچستان کے ماضی میں بہت ابہام بھی ہے، دھوکہ بھی ہے، بے وفائی ہے، تکالیف بھی ہیں، جبر بھی ہے اور صبر بھی ہے۔

تاریخ کا سبق یہی ہے کہ بلوچوں کے ساتھ وفا کرنے والے کم رہے ہیں اور جفا کرنے والے بے شمار۔ کوئی بلوچستان کی تاریخ کو خان آف قلات سے شروع کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ کوئی ماتم کرتا ہے کہ خان آف قلات نے دھوکہ دیا۔ کوئی ایوب خان کو دوش دیتا ہے اور کوئی ان کو ہیرو قرار دیتا ہے ۔ کوئی نیپ کی حکومت گرانے پر بھٹو کو الزام دیتا ہے، کوئی اکبر بگتی کو بلوچوں پر ستم کی وجہ قرار دیتا ہے۔ کوئی 70 کی دہائی کو خونچکاں قرار دیتا ہے، کوئی 80 کی دہائی پر دہائی دیتا ہے۔

 کوئی مشرف کو بگتی کا قاتل بتاتا ہے کوئی مشرف کو محسن بلوچستان بناتا ہے۔ کوئی گوادر کو گیم چینجر بتاتا ہے، کوئی اس کی بین الاقومی اہمیت کو وجہ عناد بتاتا ہے۔ کسی کے خیال میں ساری دنیا کی نظر بلوچستان کے پہاڑوں میں دفن معدنیات پر ہے، کوئی ان پہاڑوں کو فراریوں/ دہشتگردوں کی آماجگاہ بتاتا ہے۔ کوئی ایران کو دوش دیتا ہے کوئی افغانستان پر الزام دھرتا ہے اور کوئی چین پر انگلی اٹھاتا ہے۔  کوئی ماہ رنگ بلوچ کے حق میں ہے، کوئی دہشتگردوں کے ذریعے غیر بلوچوں کی نسل کشی پر پشیمان ہے۔ کوئی بی ایل اے کو نجات دہندہ کہتا ہے۔ کوئی  اس پر را کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگاتا ہے۔

تاہم سچ یہ ہے بلوچوں کے ساتھ وفا کسی نے نہیں کی۔ سرداری نظام نے بلوچوں کو صرف مطیع بنایا اور استعمال کیا۔ اس نظام نے بلوچوں کو کیا دیا اس سوال کے جواب میں تاریخ خاموش ہے۔ کوئی ڈکٹیٹروں کو الزام دیتا ہے، کوئی مفاد پرست سیاست دانوں کو دوش دیتا ہے، کسی کے خیال میں بیورو کریسی بلوچستان کو کھا گئی، کسی کے خیال میں افغان جنگ بلوچوں کو مروا گئی۔ کوئی کہتا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں گھس بیٹھیوں نے بلوچستان کو حق نہیں ملنے دیا۔ کوئی کہتا ہے کہ آزادی اظہار کی قدغنوں نے بلوچستان کی آواز بلند نہیں ہونے دی۔ یہ الزامات تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہی بلوچستان کا ماضی ہیں مگر ماضی کا مسئلہ یہ ہے کہ اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

بلوچستان کے حال میں 2 قوتیں ایک دوسرے سے نبرد آزما دکھائی دیتی ہیں۔ ایک قوت کی وجہ سے دہشت گردی کے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بسوں سے غیربلوچوں کو نکال  کر قتل کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں نوجوان خواتین کو بلیک میل کر کے انہیں خود کش بننے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ بی ایل اے اور بی وائے سی جیسی علیحدگی پسند آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ سیکورٹی فورسز پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ بلوچستان کے پہاڑوں سے خون بہہ رہا ہے۔ اور حال کی دوسری صورت یہ ہے کہ سعودی عرب ریکوڈک میں سرمایہ کاری کرنے پر رضامند دکھائی دیتا ہے۔ گوادر پورٹ دنیا کی آنکھ کا تارا بنتی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم اکثر بلوچستان کا دورہ کر کے بلوچ قیادت سے رابطہ کرتے ہیں، ان کے دکھ سکھ سنتے ہیں۔ وفاق بلوچستان کے حقوق پورے کرنے میں مدت سے سرگرم عمل ہے۔

2008 میں پیپلز پارٹی کے ’آغاز حقوق بلوچستان‘ سے لے کر آج تک  بلوچوں کو وفاق اپنا پیٹ کاٹ کر حصہ دے دہا ہے۔ بلوچستان سے وفاقی خزانے میں آنے والی رقم نہ ہونے کے برابر ہے مگر وفاق سے بلوچستان جانے والے فنڈز کثیر ہیں۔ ان سب اقدامات کے باوجود بلوچستان کی محرومی دور نہیں ہو رہی ہے۔

اگر بلوچستان میں منفی اور مثبت قوتوں کی جنگ اسی طرح چلتی رہی تو محرومی کے اس احساس میں اضافہ ہو گا، چاہے یہ کتنا ہی جھوٹ کیوں نہ ہو۔ ماضی اور حال کی تفصیل جان کر بلوچستان کے مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

بلوچوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ بلوچستان کس کے ساتھ ہے۔ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ خود کش دھماکے کرنے والے بلوچستان سے مخلص ہیں؟ کیا شناختی کارڈ دیکھ کر لوگوں کو ذبح کرنے والے بلوچستان کے ہمدرد ہیں؟ کیا ٹرینوں کو ہائی جیک کرنے والے بلوچستان کا بھلا چاہتے ہیں؟ ان سب سوالات کے جوابات نفی میں ہیں۔ جو لوگ ان واقعات میں ملوث ہیں، دراصل وہ جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں۔ جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں، انہوں نے جس دھرتی پر جنم لیا ہے، اسی دھرتی کے خلاف نعرے لگا  رہے ہیں۔ یہ بلوچستان سے دوستی نہیں بلکہ بلوچوں اور بلوچستان سے سب سے بڑی دشمنی ہے۔

ان دہشتگرد تنظیموں کو اگر بلوچستان کی فلاح عزیز ہوتی تو یہ بلوچستان میں پھیلی غربت کے خلاف احتجاج کرتے، بے روزگاری کے خاتمے کے لیے آواز بلند کرتے، جہالت کو ختم کرنے کے لیئے یونیورسٹیوں کا مطالبہ کرتے، بلوچستان کی ترقی کے لیے انفرا سٹرکچر کی بات کرتے مگر انہوں نے ریاست کے خلاف مزاحمت کا رستہ اپنایا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ریاست کسی بھی دہشتگرد گروپ سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ یہ ساری دنیا میں مسلمہ ہے کہ ریاست کی طاقت کو چیلنج کرنے والے نیست و نابود ہو جاتے ہیں۔ خود دیکھیں کہ چین نے باغیوں کو کیسے کچلا، روس میں ریاست سے لڑنے والوں کا کیا حشر ہوا۔ امریکا میں کیپٹل ہل پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ کیا بنی۔ برطانوی فسادات میں سرکاری املاک پر حملے کرنے والوں کا کیا حشر ہوا۔

یہ مثالیں اس لیے دینا ضروری ہیں کہ ریاست پاکستان بھی اپنی سلامتی کے معاملے میں مخلف نہیں ۔ یہاں بھی بات اگر ریاست کی سلامتی پر آ گئی تو کوئی دہشت گروپ نہیں بچے گا ۔ تو یہ سمجھ لیجیے کہ بلوچستان کا مستقبل صرف اور صرف  پاکستان سے وابستہ ہے۔ یاد رکھیے کہ جب سبز پرچم کو بلوچستان کے کونے کونے میں پوری حرمت سے لہرایا جائے گا تو بلوچستان دہشتگردی کے اس بھنور سے نکل آئے گا۔ یہی بلوچستان کے مسائل کا حل ہے یہی درس سات دہائیوں کی ریاضت کا پھل ہے۔

یہ واحد طریقہ ہے، جس سے بلوچستان کے ماضی کی تلخیاں دور ہوں گی، حال روشن بنے گا اور مستقبل تابناک رہے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

اردو کالم بلوچستان عمار مسعود.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اردو کالم بلوچستان بلوچستان کے بلوچستان کی بلوچستان کا بلوچستان سے کیا جا سکتا کرنے والے کہتا ہے رہے ہیں نہیں کی کے ساتھ دیتا ہے بھی ہے ہے اور رہا ہے ہے مگر

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل