"ایک اہم صوبائی عہدےدار ڈیرہ اسماعیل خان میں طالبان کو کتنے پیسے ہر ماہ دیتا ہے ؟"وزیرداخلہ محسن نقوی کا ٹوئیٹ، سوال اٹھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) ماضی میں یہ باتیں عام سننے کو ملتی رہی ہیں کہ کالعدم تنظیمیں بھتہ بھی لیتی ہیں اور اب اسی طرح کا ایک بیان وزیرداخلہ کی طرف سے آیا ہے جس نے ہرکسی کو تشویش میں مبتلا کردیا۔
وزیرداخلہ محسن نقوی کے ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ سے ہونیوالی ایک ٹوئیٹ میں سوال اٹھایاگیا کہ" ایک اہم صوبائی عہدےدار ڈیرہ اسماعیل خان میں طالبان کو کتنے پیسے ہر ماہ دیتا ہے ؟"۔
پی ٹی آئی کے سزا یافتہ رہنماؤں کو اعلیٰ عدالتوں سے ریلیف ملے گا، اسد عمر
ایک اہم صوبائی عہدےدار ڈیرہ اسماعیل خان میں طالبان کو کتنے پیسے ہر ماہ دیتا ہے ؟
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) July 24, 2025
وزیرداخلہ نے کسی عہدیدار کا نام نہیں لیا لیکن ان کا یہ اشارہ پریشان کن تھا اور وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالے ایک شخص کی طرف سے ایسا بیان جھٹلایا بھی نہیں جاسکتا۔
اس پر چوہدری علی جٹ نامی صارف نے لکھا کہ "محسن نقوی صاحب آپ وزیر داخلہ ہیں، اس کے ساتھ ایک اچھے انویسٹیگیشن جرنلسٹ ،خود بتاسکتے ہیں کیونکہ اس میں تجسس اور تحقیق کی صلاحیت ، موثر انٹرویوز لینے کی صلاحیت ، تنقیدی سوچ ، استقامت اور صبر ، اخلاقیات کا احترام ، تحریری اور لفظی صلاحیتیں ، مواد کی تجزیہ کرنے کی صلاحیت ان خوبیوں کے ساتھ حقائق کو کھوجنے اور عوام کو آگاہ صلاحیت کے ساتھ سب کچھ آپ کے کنٹرول میں ہے "۔
میٹرک میں فیل کیوں ہوئے،والدہ کی ڈانٹ پر نوجوان نے نہرمیں کود گیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔