صوبائی عہدیدار ڈی آئی خان میں طالبان کو کتنے پیسے دیتا ہے؟ محسن نقوی کا طنز
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایک طنز آمیز ٹویٹ کے ذریعے ایک اہم صوبائی عہدیدار پر خیبر پختونخوا کے ضلع ڈی آئی خان میں طالبان کو ماہانہ چندہ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ایک اہم صوبائی عہدے دار ڈیرہ اسماعیل خان میں طالبان کو کتنے پیسے ہر ماہ دیتا ہے؟
وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف تمام وسائل استعمال ہوں گے۔
محسن نقوی کے اس بیان پر ابھی تک صوبائی عہدیدار یا حکومتی حلقوں کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل نہیں آیا۔
یاد رہے کہ وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے پشاور میں اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ صوبے میں گڈ طالبان کی کوئی گنجائش نہیں، دہشتگردوں کیخلاف اب ڈرون استعمال نہیں ہوگا۔
علی امین گنڈا پور نے یہ بھی کہا کہ ہم کسی صورت فیڈرل فورس کو صوبے میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے، میرے صوبے کے حوالے سے محسن نقوی کو فیصلے کرنے کی کوئی اجازت نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محسن نقوی
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔