سٹی42: علی امین گنڈاپور کی ریاست کی اہم ترین جنگ کے خلاف ہرزہ سرائی  نے وفاقی وزیر داخلہ کو جواب دینے اور  ریاست کی پالیسی کی وضاحت کرنے پر مجبور کر دیا۔

علی امین گنڈاپور کے آج پشاور میں نیوز کانفرنس کے دوران  فتنہ الہندوستان کے خلاف جاری جنگ میں جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑنے والی فورسز کے جوانوں کو  صوبے میں لڑنے کی اجازت نہ دینے کے متعلق بڑ ماری اور یہ بھی کہا کہ صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف ڈرون حملوں کی اجازت نہیں دے گا۔

میٹرک امتحان میں فیل ہونے پر طالبعلم نے بڑا قدم اٹھالیا

اس ہرزہ سرائی کا وفاقی حکومت نے سختی سے نوٹس لیا اور وفاقی وزیر داخلہ نے بنگلہ دیش میں  ایشئین کرکٹ کونسل کی اہم مصروفیت کے باوجود اس ہرزہ سرائی کا جواب دیا اور واضح کیا کہ دہشتگردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

محسن نقوی نے ڈھاکہ سے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر اپنے آفیشل اکاونٹ پر  مختصر مگر مکمل ردعمل پوسٹ کیا جس میں انہوں نے کہا ، " دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں تمام وسائل استعمال ہوں گے"

 نادر آباد:2 مشکوک ملزمان گرفتار ، اسلحہ برآمد 

وزیر داخلہ محسن نقوی نے پہلی مرتبہ علی امین گنڈاپپور  کی ہرزہ سرائیوں کا جواب دیا تو انہوں نے صرف ریاست کی پالیسی کو بیان کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا، محسن نقوی نے اپنے سوشل پلیٹ فارم پر یہ بھی پوسٹ کیا، "ایک اہم صوبائی عہدیدار ڈیرہ اسمعیل خان میں طالبان کو کتنے پیسے ہر ماہ دیتا ہے؟" 

علیزے شاہ اور اداکارہ منسا ملک سوشل میڈیا پر آمنے سامنے

علی امین گنڈاپور کی ہرزہ سرائی

آج پشاور میں علی امین گنڈاپور کی  نام نہاد "آل پارٹیز کانفرنس" میں اس کی اپنی جماعت کے سوا کسی جماعت نے شرکت نہیں کی تھی۔ اس نام نہاد آل پارٹیز کانفرنس کے بعد علی امین گنڈاپور نے ایک نیوز کانفرنس کی اور ریاستی اداروں کی خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں فتنہ الہندوستان کے خلاف جاری جنگ پر بلا جواز تنقید کی اور یہاں تک ہرزہ سرائی کی کہ وہ وفاقی فورسز کو صوبہ میں کوئی آپریشن نہیں کرنے دے گا، حالانکہ کہ ملک بھر میں فتنہ الہندوستان کی  پاکستان کے خلاف جنگ کے جواب میں پاکستان کی فورسز تمام کارروائیاں متعلقہ حکومتوں سے پہلے سے حاصل شدہ اختیارات کے تحت جوابی کارروائیاں کرتی ہیں  جن میں فورسز کے جوانوں پر اچانک حملے کر کے بھاگنے والے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کا پیچھا کرنے اور ان کے تمام ساتھیوں تک پہنچ کر انہیں جہنم کا ایندھن بنانے تک کارروائیاں شامل ہیں۔

 اٹلی:  چھوٹا طیارہ ہائی وے پر گر کر تباہ، 2 افراد ہلاک,2 زخمی

  علی امین نے یہ بھی کہا کہ وہ صوبے میں دہشتگردوں کے خلاف ڈرون استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

آج صوبہ خیبر پؒتونخوا کے وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائض شخص کی طرف سے فتنہ الہندوستان کے خلاف جنگ میں فورسز کو  لڑنے کی اجازت نہ دینے کی باتوں کے بعد وفاقی وزیر داخلہ نے اس کا مختصر لیکن مکمل جواب دیا۔ 

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: فتنہ الہندوستان کے علی امین گنڈاپور کے خلاف جنگ وزیر داخلہ کی اجازت

پڑھیں:

بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر

اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔

ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔

اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار