بلوچستان: اورماڑہ میں ماہی گیروں نےجال میں پھنسی ریسو نسل کی ڈولفن کو سمندر میں چھوڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
نایاب نسل کی ڈولفن بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں ماہی گیروں کے جال میں پھنسی جسے بحفاظت چھوڑ دیا گیا، یہ وہیل اور ڈولفن کی ان 26 اقسام میں سے ایک ہے جو پاکستانی پانیوں میں پائی جاتی ہیں۔
ریسو ڈولفن پاکستان سمیت دنیا بھر میں تقریباً تمام معتدل اور گہرے پانیوں میں پائی جاتی ہے،اس نسل کی ڈولفن 1000 فٹ تک غوطہ اور 30 منٹ تک اپنی سانس روک سکتے ہیں، تاریخی طور پر اس نسل کی باقیات کے سن 2000 کے اوائل میں ریسو کی ڈولفن کے دیکھنے کی اطلاع ملی تھی۔پانچ سال قبل پہلی بار نر ریسو ڈولفن کو کلفٹن بیچ پر پھنسا پایا گیا تھا۔
محمد معظم خان، ٹیکنیکل ایڈوائزر (میرین فشریز) اور پاکستان وہیل اور ڈولفن سوسائٹی کے صدر کے مطابق اورماڑہ کے ماہی گیروں کی طرف سے ریسو کی ڈولفن کی رہائی ایک خوش آئند بات ہے ڈبلیو ڈبلیو ایف نے زیادہ تر پھنسے ہوئے یا الجھے ہوئے ڈولفن، بشمول ریسو ڈولفن کے لیے ماہی گیروں کے تربیتی پروگرام شروع کیا ہے جہاں ماہی گیروں کو ڈولفن اور وہیل سمیت الجھے ہوئے میگا فاونا کو چھوڑنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
اس عمل میں تقریباً 250 سے زائد ماہی گیروں نے تربیت حاصل کی، وہیں ڈولفن اور وہیل مچھلیوں کے تحفظ کے لیے بڑے پیمانے پر آگاہی پروگرام شروع کیا گیا۔ سوشل میڈیا نے ساحلی آبادیوں میں آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور اب پاکستان سے ڈولفن، وہیل اور کچھوؤں کی محفوظ رہائی کی اکثر رپورٹس آتی رہتی ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ پاکستانی پانیوں میں (وہیل، ڈالفن اور پورپوز) کی کل 26 اقسام پائی جاتی ہیں جن میں تین بیلین وہیل، 22 دانت والی وہیل اور ڈولفن اور ایک پورپوز شامل ہیں۔ریسوکی ڈالفن دانتوں والی ڈولفن میں سے ایک ہے۔ یہ دنیا کے سمندروں کے معتدل پانیوں سے جانا جاتا ہے اور بحیرہ عرب سے شاذ و نادر ہی دیکھا یا رپورٹ کیا جاتا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کی کوششوں سے تمام ڈولفن اور وہیل مچھلیوں کو دونوں بحری صوبوں کے ماہی گیری کے قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے جبکہ سندھ اور بلوچستان دونوں کے وائلڈ لائف قوانین میں بھی ڈولفن اور وہیل کو ضمیمہ-I میں شامل کیا گیا ہے جس سے ان اہم جانوروں کو پروٹیکٹڈ اسپیشیز کا درجہ دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔