پی ایس ایل ترانہ؛ علی ظفر کو منتخب کرنا ملتان سلطانز کے اونر کو پسند نہ آیا؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10ویں ایڈیشن کے ترانے کیلئے معروف گلوکار علی ظفر کا نام ملتان سلطانز کے فرنچائز مالک کو پسند نہ آیا۔
گزشتہ روز پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن کیلئے انتظامیہ نے گلوکار علی ظفر کے نام کو ترانہ گانے کیلئے فائنل کیا، جس پر ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے انسٹاگرام پر تنقید کے نشتر چلادیے۔
ملتان سلطانز کے اونر علی ترین نے گلوکار کا نام لیے بغیر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ''پاکستان میں بہت سے شاندار آرٹسٹ موجود ہیں لیکن تقریباً آدھے سے زائد پی ایس ایل آنتھم ایک ہی 'مڈل ایجڈ' گلوکار کو دیے گئے ہیں''۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل10؛ ترانے کیلئے نام فائنل، اعلان ہوگیا
انہوں نے پی ایس ایل انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ''پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کو سب سے بڑا بنانے کی بات کرتے ہیں لیکن ہر بار ایک ہی آواز کو موقع دیا جاتا ہے''۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل10؛ ری پلیسمنٹ ڈرافٹ میں کِس ٹیم نے کِس کو چُنا؟
علی ظفر کے پی ایس ایل میں گائے جانے والے انتھم:
'اب کھیل کے دکھا' (2016)
'اب کھیل جمے گا' (2017)
'دل سے جان لگا دے' (2018)
'کھل کے کھیل' (2024)
معروف گلوکار پر میشا شفی کی جانب سے ہراسانی کا الزام عائد کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں پی ایس ایل ترانوں سے دور کردیا گیا تھا تاہم الزام سچ نہ ہونے پر انہیں دوبارہ 2024 میں موقع ملا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملتان سلطانز کے پی ایس ایل علی ظفر
پڑھیں:
بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔ منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے، سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا، تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔