ہیوسٹن:امریکی ریاست ٹیکساس کے ایوان نمائندگان نے 23 مارچ کو یومِ پاکستان کے طور پر تسلیم کرنے کی قرارداد منظور کی۔
قرارداد میں پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کی ریاست ٹیکساس میں سماجی، مذہبی، لسانی اور معاشی شراکت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ ریاستی نمائندے ڈاکٹر سلیمان لالانی کی طرف سے پیش کردہ قرارداد میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ٹیکساس کی پاکستانی کمیونٹی نے اپنے پیشہ ورانہ کام، ثقافتی پس منظر اور امن و خوشحالی کی اقدار کے ذریعے ریاست کی کامیابی کو تقویت دی  ۔
یاد رہے کہ گذشتہ دنوں نیو یارک کی ریاستی اسمبلی کی جانب سے بھی سفیر پاکستان کی موجودگی میں یوم پاکستان اور پاکستان بزنس ڈے کے حوالے سے دو قراردادیں منظور کی گئی تھیں۔
امریکہ میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے ٹیکساس اسمبلی کی جانب سے یوم پاکستان کی قرارداد منظور کیے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی مختلف ریاستوں میں یوم پاکستان کے حوالے سے قرارداد وں کا منظور کیا جانا ریاستی سطح پر پاک امریکہ تعلقات خصوصاً معاشی تعلقات کے فروغ کے حوالے سے انتہائی حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی قراردادوں کی منظوری کا سلسلہ دیگر ریاستوں خصوصاً ایسی ریاستوں جہاں پاکستانی کمیونٹی کثیر تعداد میں موجود ہے تک بڑھایا جائے گا۔
قونصل جنرل آفتاب چوہدری نے ایوان کے سپیکر مسٹر ڈسٹن بروز سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی اور قرارداد کی منظوری میں ان کے کردار پر شکریہ ادا کیا۔ قونصل جنرل نے سپیکر کو ٹیکساس کے ریاستی نمائندوں اور تاجروں کے وفد کے ہمراہ پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔
بعد ازاں انہوں نے ریاستی نمائندے ڈاکٹر سلیمان لالانی کی طرف سے ٹیکساس کیپیٹل میں مقننہ کے دونوں ایوانوں کے اراکین اور مقامی معززین کے اعزاز میں دی گئی افطار میں بھی شرکت کی۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: یوم پاکستان پاکستان کے منظور کی کی ریاست

پڑھیں:

امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن