مصطفیٰ قتل کیس: ملزم ارمغان کے اعترافی بیان پر پراسیکیوشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، اسپیشل پراسیکیوٹر
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
مصطفیٰ عامر کے اغواء اور قتل کیس کی پیروی کرنے والے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ ملزم ارمغان کے اعترافی بیان کے معاملے پر پراسیکیوشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ذوالفقار آرائیں کا کہنا تھا کہ پولیس سے کیس میں پیش رفت رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر مانگی تھی جو نہیں ملی۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے صرف ایک دفعہ کیس کی پیش رفت رپورٹ دی، انوسٹیگیشن سے متعلق ہماری گائیڈلائنز پر آئی جی کی ہدایت کے باوجود عمل نہیں کیا گیا۔
اسپیشل پروسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ہماری گائیڈلائنز کے مطابق دیگر اداروں، خاص کر ایف آئی اے نے کام شروع کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملزم ارمغان کا اعترافی بیان قانون کے مطابق ایس ایس پی کے سامنے ہوچکا تھا، پولیس سے کہا گیا تھا کہ ملزم ارمغان کا اعترافی بیان نہ کروایا جائے کیس خراب ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔