بلوچستان میں اینٹیمنی دھات کے بڑے ذخائر کی دریافت
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان میں اینٹیمنی دھات کے بڑے ذخائر کی دریافت ہوئی ہے جبکہ گلگت بلتستان میں 10 معدنی بلاکس کے حصول کی پیش رفت میں سونا، تانبہ، نکل اور کوبالٹ کے ذخائر کی تصدیق کرلی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بلوچستان میں اینٹیمنی کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، یہ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) اور پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) کا جامع تجارتی منصوبہ ہے۔
او جی ڈی سی ایل اور پی ایم ڈی سی کی 50:50 شراکت داری، مشترکہ منصوبے کا اعلان 8-9 اپریل کو "پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025" کے دوران متوقع ہے۔
اسی طرح گلگت بلتستان میں 10 معدنی بلاکس کے حصول میں پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سونا، تانبہ، نکل اور کوبالٹ کے ذخائر کی تصدیق کی گئی ہے۔
پنجاب میں چنیوٹ کے معدنی ذخائر کی تلاش کے لیے او جی ڈی سی ایل اور منرل ڈیپارٹمنٹ میں رابطے جاری ہیں۔
اینٹیمنی کی ریفائننگ کے لیے پاکستان نے اومان کی جدید سہولیات سے استفادے پر غور شروع کردیا ہے، پاکستان میں جدید کان کنی کے فروغ کے لیے تعلیمی نصاب کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
معدنی شعبے کی ترقی کے لیے او جی ڈی سی ایل کا ایچ ای سی اور یونیورسٹیوں کے ساتھ تعاون اور بلوچستان میں اینٹیمنی کے ذخائر کے مکمل تجزیے کے لیے ریموٹ سینسنگ اور جیولوجیکل سروے کی تیاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلوچستان میں اینٹیمنی او جی ڈی سی ایل ذخائر کی کے لیے
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔