’گبلی‘ کے پاگل پن نے چیٹ جی پی ٹی ٹیم سے نیند چھین لی، بانی صارفین کے سامنے ہاتھ جوڑنے پر مجبور
اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)گبلی کے بخار نے چیٹ جی پی ٹی ٹیم سے ان کی نیندیں چھین لی جس کے بعد اوپن اے آئی کے بانی صارفین کے سامنے ہاتھ جوڑنے پر مجبور ہوگئے۔
اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے چیٹ جی پی ٹی چلانے والے صارفین پر زور دیتے ہوئے درخواست کی ہے کہ وہ گبلی کے وائرل ٹرینڈ کا استعمال کم کردیں کیونکہ اس سے اوپن اے آئی کے سرور پر کافی لوڈ بڑھ گیا ہے۔
اسٹوڈیو گبلی دراصل جاپان کا مشہور اینیمیشن اسٹوڈیو ہے، جو اپنی خوبصورت ہاتھ سے بنی فلموں، جادوئی دنیاؤں اور شاندار کہانیوں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ ”اسپریٹڈ اوے“، ”مائی نیبر ٹوٹورو“ اور ”پرنسس مونونوکے“ اس کے بہترین شاہکاروں میں شامل ہیں۔
اس نئے ٹول کی مدد سے سوشل میڈیا صارفین نے گبلی اسٹائل میں اے آئی سے تیار کردہ تصاویر اور میمز تخلیق کیے، جو دیکھتے ہی دیکھتے ایکس اور انسٹاگرام پر وائرل ہوگئے۔
تاہم گبلی کا پاگل پن شدت اختیار کر گیا جس کے بعد چیٹ جی پی ٹی کے بانی کو خود صارفین کیلئے پیغام چھوڑنا پڑا۔
اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے ایکس پر ایک پوسٹ میں صارفین سے تصاویر بنانے کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ”ہماری ٹیم کو نیند کی ضرورت ہے“ کیونکہ تصاویر بہت زیادہ بنائی جا رہی ہیں۔
جب ایک صارف نے طنزیہ انداز میں مشورہ دیا کہ زیادہ مانگ کی وجہ سے آلٹ مین کو اپنی ٹیم کو برطرف کر دیا جائے، تو آلٹ مین نے جواب دیا کہ ان کی ٹیم غیر معمولی ہے اور اس نے صرف 2.
اس ہفتے کے شروع میں آلٹ مین نے کہا تھا کہ چیٹ جی پی ٹی سرور کا بوجھ ”بہت زیادہ“ ہوگیا ہے اور کمپنی اس خصوصیت کو محدود کر رہی ہے۔
مزیدپڑھیں:عیدالفطر کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل، شاپنگ مالز اور بازاروں میں رش بڑھ گیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی آلٹ مین نے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔