شوال کا چاند نظر آگیا، پاکستان میں عیدالفطر کل منائی جائے گی
اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT
چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے شوال المکرم 1446 ہجری کا چاند نظر آنے کا اعلان کردیا، پاکستان میں عیدالفطر کل منائی جائے گی۔
شوال کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس مولانا عبدالخبیر آزاد کے زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا اجلاس میں مذہبی امور اور موسمیات کی وزارتوں کے حکام شریک ہوئے۔
مولانا عبدالخبیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کے بیشتر مقامات پر مطلع صاف تھا ، شوال کا چاند نظر آگیا، پاکستان میں عیدالفطر کل منائی جائے گی
واضح رہے کہ آج سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، قطر، کویت، بحرین، یمن، فلسطین، افغانستان، برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک میں مسلمان آج عید الفطر منائی گئی۔
مکہ مکرمہ میں مسجدالحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبویﷺ میں عید الفطر کی نماز کی ادائیگی کے اجتماع میں ہزاروں مقامی اور غیر ملکی زائرین نماز عید کے اجتماعات میں شریک ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کا چاند
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔