پاکستان میں عید کا چاند نظر آگیا ہے، کل ملک بھر میں روایتی جوش و خروش سے عید منائی جائیگی۔

یہ بھی پڑھیں:عیدالفطر پر موسم کیسا رہنے کا امکان ہے؟

رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخیبر کے اعلان کے مطابق شوال 1446ہجری کا چاند نظر آگیا ہے۔ جس کے ساتھ ہی رمضان المبارک اختتام کو پہنچا، کل بروز پیر ملک بھر میں عید الفطر منائی جائیگی۔

آج کہاں کہاں عید الفطر منائی جارہی ہے؟

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، ترکیہ اور افغانستان میں آج عید الفطر منائی جارہی ہے۔ امریکا اور کینیڈا میں طے شدہ مسلم کیلنڈر پر عمل کرنے والے بھی آج عید منا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میرٹھ: سڑک پر عید کی نماز پڑھنے پر لائسنس، پاسپورٹ منسوخ کرنے کا اعلان

برطانیہ میں بھی مسلم کمیونٹی تقسیم ہے۔ بعض لوگ آج عید الفطر منا رہے ہیں جبکہ بعض کل بروز پیر نماز عید ادا کریں گے۔ پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں مقیم افغان باشندے بھی آج عید الفطر منا رہے ہیں۔

بروز پیر عید

ایران، عمان، بنگلہ دیش اور بھارت میں عید الفطر پیر کو منائی جائے گی۔ ملائیشیا، انڈونیشیا، برونائی اور آسٹریلیا میں بھی عیدالفطر پیر کو ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چاند رمضان رویت ہلال کمیٹی عیدالفطر مفتی عبدالخبیر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چاند رویت ہلال کمیٹی عیدالفطر مفتی عبدالخبیر عید الفطر

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین