مخصوص ٹولا ملک کو دیوالیہ کرنے کا خواہش مند تھا، وزیر اعظم کی پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر تنقید WhatsAppFacebookTwitter 0 3 April, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز )وزیراعظم نے نام لیے بغیر لیے بغیر اپنے خطاب میں کہا کہ مخصوص ٹولا ملک کو دیوالیہ کرنے کا خواہش مند تھا، اسی ٹولے نے آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑا، مخصوص ٹولے نے اپنی سیاست پر ریاست کو قربان کر دیا، تحریک انصاف کا نام لیے بغیر وزیراعظم نے تنقید میں کہا آئی ایم ایف سے تعلقات بحال کیے جا رہے ہیں، مسائل کے حل کے لیے بڑی سرجری کرنا ہوگی، درست اور کڑے فیصلوں کی ضرورت ہے۔

بجلی کے نرخوں میں کمی کے حکومتی پیکیج کے حوالے سے تقریب کا اہتمام اسلام آباد میں ہوا جس میں وفاقی وزرا اور سیاسی شخصیات بھی شریک ہوئیں۔ تقریب کا اہتمام تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کے بعد نعت رسول مقبول ۖ پیش کی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج گھریلو صارفین کیلئے بجلی 45 روپے 5 پیسے فی یونٹ ہے، جو کمی کے بعد 34 روپے 37 پیسے فی یونٹ بجلی ملے گی۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو پاکستان کے سر پر ڈیفالٹ یعنی دیوالیہ ہونے کی تلوار لٹک رہی تھی، اور کاروباری حضرات بجا طور پر اور قوم عمومی طو پر خوفزدہ تھی، کہ حالات کس کروٹ بیٹھیں گے، یقین مانئے کہ آئی ایم ایف بات سننے کو تیار نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے ابتدائی دنوں میں بزنس کمیونٹی کی ایل سیز کھولنے کے لیے زرمبادلہ نہیں تھا، ملک کے مخالف خوشی سے پاگل ہوئے جا رہے تھے، ان کو یقین ہوچلا تھا کہ اب پاکستان کو ڈیفالٹ سے نہیں بچایا جاسکتا، انہیں اسی طرح یقین تھا جیسے کسی کی موت آجائے تو کوئی بچا نہیں سکتا، پاکستان اب ڈیفالٹ ہوا تو ہوا، یہ ٹولہ اس مقصد کے لیے ہر حد پار کرگیا تھا، اسی ٹولے نے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کو خود توڑا۔ وزیراعظم کا گھریلو صارفین کیلئے 7 روپے 41 پیسے اور صنعتوں کیلئے 7 روپے 59 پیسے فی یونٹ بجلی کمی کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے تنقید میں کہا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے جو کوششیں ہورہی تھیں، تو انہیں ختم کرنے کیے آئی ایم ایف کو خط لکھے گئے، ملک کیخلاف ایک گھنانا کردار ادا کیا گیا، اپنی سیاست پر پاکستان کے مفادات کو قربان کیا گیا، ریاست کا وہ حال کیا گیا، کہ شاید ایسا 77 سال میں کبھی نہیں ہوا ہوگا، بہر کیف جیسے کہ کہتے ہیں کہ مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں کہتا ہوں اللہ پاک نے ہماری محنت قبول کی، اور پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچالیا، اس مقصد کے لیے پوری قوم ، بزنس کمیونٹی اور غریب لوگوں نے جو قربانیاں دیں اور مصائب برداشت کیے، وہ قابل قدر ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں کرنے والے خوشی سے مرے جارہے تھے کہ پاکستان اب دیوالیہ ہوکر رہے گا مگر ایسا نہ ہوا، یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا اور اسے توڑا۔ مسائل کے حل کے لیے بڑی سرجری کرنا ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کا نام لیے بغیر

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ