ٹرمپ ٹیرف کے بعد وال اسٹریٹ میں سب سے بڑی یومیہ کمی، شدید مندی کا رجحان
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
نیو یارک:
وال اسٹریٹ پر گزشتہ روز شدید مندی کا سامنا رہا اور امریکی مارکیٹس نے کئی سالوں میں سب سے بڑی یومیہ فیصد کی کمی ریکارڈ کی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وسیع پیمانے پر نافذ کردہ ٹیرف نے عالمی تجارتی جنگ اور عالمی معیشت میں کساد بازاری کے خدشات کو جنم دیا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا عالمی تجارت پر بڑا فیصلہ، یورپی یونین اور 46 ممالک پر بھاری ٹیکس عائد
ٹرمپ نے امریکہ کی زیادہ تر درآمدات پر 10 فیصد ٹارف عائد کر دیا، جبکہ دیگر ممالک پر کہیں زیادہ ٹیکس لگائے گئے۔ اس اقدام نے عالمی تجارتی نظام میں بڑی خلل اندازی کا امکان ظاہر کیا ہے، جو چند ماہ قبل تک امریکی اسٹاک مارکیٹس میں کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی تھی۔
سرمایہ کاروں نے وال اسٹریٹ پر محفوظ سرمایہ کاری کی اور حکومتی بانڈز کی طرف رخ کیا جو سرمایہ کاری کے لحاظ سے زیادہ محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔
وال اسٹریٹ میں شدید مندی کے باعث مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی کیونکہ عالمی تجارت میں شمولیت رکھنے والے دیگر ممالک کی جانب سے ٹرمپ کے فیصلوں پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
یہ پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا اقدام، یو ایس ایڈ کے ہزاروں ملازمین برطرف
دوسری طرف چین نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے، جبکہ یورپی یونین بھی 20 فیصد ٹیکس کی مخالفت کر رہا ہے۔
جنوبی کوریا، میکسیکو، بھارت اور دیگر تجارتی شراکت داروں نے کہا ہے کہ وہ اپریل 9 سے پہلے ٹیرف کے نفاذ سے متعلق رعایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
ان عالمی ردعملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے جس کے نتیجے میں وال اسٹریٹ پر شدید مندی کا رجحان رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وال اسٹریٹ
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔