ارشاد بھٹی نے اپنی دوسری اہلیہ کو کتنی عیدی دی؟ جان کر ہوش اُڑ جائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
پاکستان کے مشہور اینکر پرسن اور تجزیہ کار ارشد بھٹی نے اپنی اہلیہ کو لاکھوں روپے عیدی دے دی۔
پہلی بیوی کے انتقال کے بعد اپنے غم کو عوامی سطح پر پروگرامز اور ویڈیوز کے زریعے شیئر کرنے والے ارشاد بھٹی نے حال ہی میں سابقہ اداکارہ سے دوسری شادی کی جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر خوب وائرل بھی ہوئی تھیں۔
ارشد بھٹی کی شادی ایک سادہ تقریب میں ہوئی تھی جس میں صرف قریبی رشتہ داروں اور دوستوں نے شرکت کی تھی۔
حال ہی میں ارشاد بھٹی ایک عید کے شو میں مہمان کے طور پر شریک ہوئے اور اپنی دوسری بیوی اور بچوں کے ساتھ عید گزارنے کے بارے میں بات کی۔
انہوں نے بتایا کہ پورے خاندان نے مل کر عید پر خوبصورت وقت گزارا۔ عیدی سے متعلق سوال پر ارشاد بھٹی نے بتایا انہوں نے اپنی نئی نویلی دلہن کو عید کے موقع پر بہت بڑی رقم تحفے کے طور پر دی، جو جان کر سب حیران رہ گئے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو 20,000 سعودی ریال عیدی کے طور پر دیئے جو تقریباً 15 لاکھ پاکستانی روپے بنتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارشاد بھٹی انہوں نے نے اپنی بھٹی نے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔