اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں 30 لاکھ مستحق خاندانوں کیلئے ریلیف پیکیج دیا گیا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین اور شزا فاطمہ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل پاکستان کے وڑن کے تحت والٹ کے ذریعے ادائیگی کی گئی، پروگرام کے تحت 19 لاکھ ڈیجیٹل ٹرانزیکشن ہوئیں، ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شفافیت کو بھی یقینی بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل میں نجی شعبے نے بھی اہم کردار ادا کیا، مستحق خاندانوں کو براہ راست رقم ادا کی گئی، وزیراعظم نے آج تمام ٹیم ممبرز کو مبارکباد دی، وزیر آئی ٹی شزافاطمہ کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے کہا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے سبسڈی کے حوالے سے اشیاء کے معیار و شفافیت سے متعلق سوالات اٹھ رہے تھے، وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ آئندہ ڈیجیٹل طریقے سے مستحق خاندانوں کی مدد کریں گے، شفافیت سے مستحقین تک پیسے پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ رمضان پیکیج کے تحت ان خاندانوں کو ریلیف ملا جو کسی اور پروگرام سے مستفید نہیں ہو رہے تھے، اگلے رمضان میں مزید شفاف طریقے سے مدد کی جائے گی۔ رانا تنویر نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل والٹ کا آئیڈیاوفاقی وزیر آئی ٹی شزافاطمہ صاحبہ نے دیا جو کامیاب ہوا، ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام پر عوام نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، مستقبل میں اس نظام کو مزید بہتر کریں گے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا کہ پہلی بار 20 ارب روپے کا منصوبہ ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے مکمل ہوا، ہم پورے فریم ورک کے تحت ڈیجیٹل اکانومی کی طرف بڑھ رہے ہیں، پاکستان میں جن کے پاس بینکس اکاؤنٹس نہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، تمام شعبوں میں ٹیکنالوجی کو ترقی دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل والٹ معیشت کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، تقریباً ساڑھے 9 لاکھ نئے ڈیجیٹل والٹ قائم کئے گئے، 19 لاکھ سے زائد ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں، بغیر لائن میں لگے ادائیگی سے عوام کو آسانی میسر آئی، 8 لاکھ سے زائد خواتین نے ڈیجیٹل والٹ استعمال کیا۔ شزا فاطمہ نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف، وفاقی وزراء اور تمام ٹیم کا شکریہ ادا کرتی ہوں، پی ٹی اے اور سٹیٹ بینک نے بھی ہمیں بہت سپورٹ کیا، وزیراعظم کی ہدایت پرکنٹرول روم بھی قائم ہوا، 20 لاکھ سے زائد شکایات کو حل کیا گیا، آئندہ بھی اس ڈیجیٹل طریقہ کار کو تمام پروگرامز میں شامل کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ڈیجیٹل والٹ وفاقی وزیر نے کہا کہ کے ذریعے کے تحت

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر تبادلہ خیال
  • بی آئی ایس پی مستحق خواتین کے لیے بڑی سہولت، آئندہ قسط وصول کرنے کا نیا طریقہ سامنے آگیا
  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی حکومت کا 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ 
  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت