سندھ اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
جیکب آباد کے مختلف علاقوں میں عوام سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ لوگوں کی جان و مال، عزت آبرو کوئی چیز محفوظ نہیں ہے، جبکہ حکمرانوں کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے۔ حکمرانوں کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ڈاکو راج، بااثر لوگوں کی سرپرستی میں عوام کو لوٹنے میں مصروف ہے۔ یہ بات انہوں نے جیکب آباد کے علاقوں گوٹھ علی دوست خان گولاٹو، گوٹھ محمد اعظم خان گولاٹو اور گوٹھ حاصل خان ٹالانی کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ضلع جیکب آباد سمیت سندھ اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تشویش ناک ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ روزانہ درجن بھر موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتیں ہو رہی ہیں۔ ہندو برادری بدامنی کے سبب نقل مکانی کرکے سندھ چھوڑ رہی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ چھ مہینے میں ضلع جیکب آباد سے چار سو ہندو خاندان نقل مکانی کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جان و مال، عزت آبرو کوئی چیز محفوظ نہیں ہے، جبکہ حکمرانوں کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ڈاکو راج، باثر لوگوں کی سرپرستی میں عوام کو لوٹنے میں مصروف ہے۔ ایسے میں ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ اس بدامنی کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں۔ اس موقع پر گوٹھ حاصل خان ٹالانی کے مکینوں نے بتایا کہ گاؤں میں اسکول نہیں ہے اور گاؤں کے بچے تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ گذشتہ چھ ماہ سے ٹرانسفارمر خراب ہونے کے سبب بجلی نہیں ہے۔ جبکہ روڈ راستے غیر محفوظ ہونے کے سبب گاؤں سے شہر جیکب آباد آتے دو شہریوں سے موٹر سائیکل اور نقد رقم چھینی جا چکی ہے۔ اس موقع پر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ہم عوام کے ساتھ ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لئے ہر سطح پر آواز بلند کریں گے۔ اس موقع پر حاجی شاہ مراد خان ڈومکی رحمدل خان ٹالانی استاد رفیق احمد ڈومکی منصب علی مظفر علی خان ٹالانی و دیگر موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈومکی نے کہا عوامی مسائل علامہ مقصود جیکب آباد نے کہا کہ لوگوں کی نہیں ہے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔